انڈیا: چائلڈ لیبر پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی حکومت نے چودہ سال سے کم عمر بچوں کے مزدوری کرنے پر مکمل پابندی عائد کردی ہے۔ حکومت کے اس فیصلے کے نتیجے میں سڑکوں کے کنارے ، ہوٹلوں، گھروں اور صنعتی فیکٹریوں میں چودہ برس سے کم عمر کے بچے کام نہیں کر سکیں گے۔ چائلڈ لیبر سے متعلق اس نئے قانون پر اس سال اکتوبر میں عمل درآمد ہو گا۔ ہندوستان کی وزارت محنت کے ایک افسر ایس کے شریواستو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’چائلڈ لیبر پر نظر رکھنے والی کمیٹی وقتا فوقتا یہ جائزہ لیتی رہی ہے کہ فیکٹریوں میں کام کرنے والے بچوں کو کسی طرح کا کوئی خطرہ تو لاحق نہیں ہے۔ کمیٹی کی رسرچ کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ فیکٹریوں اور ہوٹلوں میں بچوں کے کام کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے‘۔ مسٹرشریواستو نے مزید بتایا ہے کہ پابندی کافیصلہ اس حقیقت کے پیش نظر کیا گیا ہے کہ یہ مزدور بچے جسمانی، نفسیاتی اور جنسی استحصال کا شکار ہورہے ہیں۔ مسٹر شریواستو کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص اس قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو اسکو چائلڈ لیبرسے متعلق قانون کے تحت قید کی سزا دی جائیگی۔ بچوں کی فلاح کے لۓ کام کرنے والی دلی کی ایک غیر سرکاری تنظیم بچپن بچاؤ آندولن کے سربراہ کیلاش ستیارتھی کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں 1986 میں چائلڈ لیبر سے متعلق قانون بنا تھا اور اسی میں تبدیلی کرکے یہ نیا قانون بنایاگیا ہے جس کے تحت گھریلو ملازموں اور سڑک کے کنارے بنے ہوٹلوں میں بچوں کے کام کرنے پر پابندی لگے گی۔ مگرافسوس اس بات کا ہے کہ ہندوستان میں قانون کا زیادہ اثر نہیں ہوتا ہے۔ 1986 میں بنے قانون کے مطابق جو بھی شخص کم عمر کے بچوں سے مزدوری کراۓ گا اس کو دو سال قید تک کی سزا ہوسکتی ہے لیکن آج تک کسی بھی ایسےشخص کو سزا نہیں دی گئ جبکہ لاکھوں بچےمزدوری کررہے ہیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||