جنگیں، 43 ملین بچے سکول سے باہر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک نئی رپورٹ کے مطابق دنیا میں مسلح لڑائیوں کی وجہ سے کم سے کم 43 ملین بچے پرائمری سکول نہیں جاپا رہے۔ یہ اعداد و شمار بچوں کے حقوق کا دفاع کرنے والی تنظیم ’سیو دی چِلڈرن‘ نے جاری کیے ہیں۔ اس تنظیم کا کہنا ہے کہ سیاسی عزم اور مزید مالی امداد کے بغیر مسلح لڑائی والے علاقوں میں پھنسے ہوئے بچوں کی ابتدائی تعلیم یقینی بنانا ناممکن سا ہے۔ پاکستان میں 39 فیصد، عراق میں 22 فیصد اور افغانستان میں 33 فیصد بچے سکول نہیں جاتے۔ سیو دی چِلڈرن نے ایک عالمی مہم چلائی ہے تاکہ ایسے بچوں کا سکول جانا یقینی بنائی جاسکے۔ یہ تنظیم دنیا کے حکومتی رہنماؤں پر دباؤ بڑھانا چاہتی ہے تاکہ وہ مثبت سمت میں اقدام کریں۔ یہ غیرسرکاری تنظیم چاہتی ہے کہ سن 2010 تک کم سے کم تین ملین بچوں کو سکول میں داخل کرایا جائے۔ سن 2000 میں اقوام متحدہ کے ہزاریہ ترقیاتی اہداف پر دنیا کے بیشتر ممالک نے دستخط کیے تھے جس کے تحت سن 2015 تک پرائمری تعلیم کو پوری دنیا میں عام بنانا ہے۔ سیو دی چِلڈرن کا کہنا ہے کہ بچوں کی ابتدائی تعلیم یقینی بنانے کی کوششیں اس وقت تک ناکام رہیں گی جب تک ان علاقوں میں رہنے والے بچوں پر توجہ نہیں دی جاتی جہاں برسوں سے مسلح لڑائیاں جاری ہیں۔ | اسی بارے میں بچوں سے مشقت، عالمی ضمیر پر دھبہ 21 February, 2005 | آس پاس ایڈز سے ڈیڑھ کرورڑ بچے یتیم 25 October, 2005 | آس پاس بچوں کی تجارت: جنوبی ایشیا خبردار29 September, 2004 | آس پاس صحت کی سہولتوں سے محروم بچے24 January, 2005 | آس پاس نیا عراق: بچے غذائیت سے محروم 31 March, 2005 | آس پاس ایشیائی بچے زیادہ غریب ہیں 22 August, 2005 | آس پاس ’دنیا بچوں کا پیٹ بھرنے میں ناکام‘02 May, 2006 | آس پاس لبنان: متاثرین میں بچے آگے آگے 04 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||