ایشیائی بچے زیادہ غریب ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک نئی رپورٹ کے مطابق ایشیا کے ایک اعشاریہ دو بلین بچوں میں سے نصف زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ اس رپورٹ کو بچوں کی بین الاقوامی ایجنسی ’پلان‘ نے مرتب کیا ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دو عشروں میں اس خطے میں ہونے والی معاشی ترقی کے باوجود ایشیا میں افریقہ کی نسبت دو گنا زیادہ بچے خوراک، صحت اور رہائش سے محروم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس کی وجہ قدرتی وسائل کی کمی، آبادی میں اضافہ، بد انتظامی، رشوت اور ذات پات کا نظام ہے۔ اس رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ بھارت میں قریباً چار کروڑ بچے ابتدائی تعلیم سے محروم ہیں اور جنوبی ایشیا میں ہر دسواں بچہ اپنی پانچویں سالگرہ سے قبل ہی وفات پا جاتا ہے۔ ’پلان‘ کے سربراہ ٹام ملر کا کہنا ہے کہ غریب بچوں کے معاملے پر اگر اب توجہ نہ دی گئی تو یہ براعظم ایشیا کے مستقبل پر بری طرح اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غربت سے نمٹنے کے لیے عالمی قوتوں کو امیر ممالک کے کسانوں کو دی جانے والی چھوٹ واپس لے لینی چاہیے اور اس رقم کو غریب اور ترقی پذیر ممالک پر خرچ کرنا چاہیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||