کروڑوں افراد غلامی میں زندہ ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مزدوروں کی عالمی تنظیم ’ILO ‘ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا میں 12.3 ملین افراد غلامی کی زندگی جی رہے ہیں۔ ILO کے مطابق ان میں سے 2.4 ملین افراد انسانی اسمگلنگ کی وجہ سے اس جدید غلامی کا شکار ہیں۔ ان افراد کی مشقت سے 30 بلین ڈالر سے زیادہ منافع کمایا جاتا ہے۔ مزدوروں کی عالمی تنظیم ILO کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ یہ اعداد و شمار حالیہ تخمینوں سے سے کم ہوں کیوں کہ یہ صرف درج شدہ کیسوں سے اخذ کیے گئے ہیں تاہم مختلف اقوام میں اس طرح کے واقعات کے بڑھنے کے رجحان کی وجہ سے ان میں اضافے کا امکان ہے۔ اس رپورٹ میں اس بظاہر غیر اہم مسئلہ کے حل کے لئے قوانین کو بہتر بنانے اور عالمی شعور کو بڑھانے کے لئے عالمی اتحاد کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
’عالمی اتحاد برائے انسداد جبری مشقت‘ کے عنوان سے شائع ہونے والے مزدوروں کی عالمی تنظیم کی یہ رپورٹ اس صدی میں سامنے آنے والی جبری مشقت پر دوسری اہم تحقیق ہے۔ تنظیم نے کہا ہے کہ جبری مشقت ہر معیشت اور علاقے میں موجود ایک عالمی مسئلہ ہے۔ حالانکہ جبری مشقت کے واقعات سب سے زیادہ ایشیااور لاطینی امریکہ کے غریب ممالک میں ہیں تاہم ترقی یافتہ صنعتی ممالک میں بھی ایسے 350,000 درج شدہ واقعات ہیں۔ ِILO کے مطابق جبری مشقت کے پانچ چوتھائی حصّے کے ذمہ دار نجی ایجنٹ ہیں۔جن کا شکار زیادہ تر عورتیں اور بچے ہیں۔ اس رپورٹ میں جبری مشقت کی کئی اقسام ظاہر کی گئی ہیں جو خاصے عرصے سے جانی پہچانی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک مثال ’بونڈڈ لیبر‘ کی بھی ہے جس میں والدین کے ساتھ ساتھ بچوں سے بھی رہائی کی امید کے بغیر والدین والی مشقت کروائی جاتی ہے۔
کچھ جنگ زدہ علاقوں میں اس جدید غلامی میں اضافہ ہورہا ہے جہاں بچوں کو پکڑ کران کو جنگجوں یا جسنی غلام بنالیا جاتا ہے۔ تاہم اس رپورٹ میں اس مسئلہ کا بدترین رخ نئ بین الاقوامی معیشت میں دکھایا گیا ہے جہاں جنسی تجارت ، زراعت، تعمیر اور گھریلو کام جیسی صنعتوں میں جبری مشقت عام ہے ۔ ILO نے اس رپورٹ میں ترقی یافتہ امیر ممالک کو تجویز دی ہے کہ وہ اس مسئلہ کے حل کے لئے اپنی محنت اور تارکین وطن کے بارے میں پالیسیوں پر نظر ثانی کریں ہیں۔ گزشتہ سال کیمرون میں کئی ممالک سے مزدوروں کی یونین کے مندوبین نے ایک اجلاس میں شرکت کی ۔ اس اجلاس میں دیگر مسائل کے علاوہ جبری مشقت، اغواء، جبری گھریلو مشقت اور جنسی تجارت جیسے مسائل پر بھی بات چیت کی گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||