بچہ مزدوری کی'پوسٹرگرل'خودمزدور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں بچوں سےمزدوری کرانے کےخلاف مہم میں جس بچی کی تصویراقوام متحدہ کی طرف جاری پوسٹرمیں ہے وہی بچی خود مزدوری پر مجبور ہے۔ چونم نامی کمسن لڑکی دن میں بارہ گھنٹے کام کرتی ہے۔ بھارتی حکومت نےگزشتہ ماہ ہی بچہ مزدوری کے خاتمے کے لیے ایک نیا قانون نافذ کیا ہے۔ لیکن چونم جیسے لاکھوں بچوں کی مشکلیں کم نہیں ہوئی ہیں۔ اس قانون میں 14 سال سے کم عمر کے بچوں سے کام کرانا غیر قانونی قرار دیا گیا ہے اورچائے کے ڈھابے، رستوراں، ہوٹلز یاگھروں میں بچوں سے کام کرانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
لیکن مذکورہ قانون کے نفاذ کے طور طریقوں پر ہر جانب سے نکتہ چینی ہورہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کےاس قانون کے نفاذ میں کافی مشکلیں ہیں اور چونم اس کی ایک مثال ہے ۔ ریاست بہار کے دارلحکومت پٹنہ میں چونم سڑک کے کنارے اپنے والد کے ڈھابے میں صفائی کا کام کرتی ہے اور لوگوں کو کھانا کھلاتی ہے۔ یونیسیف کے پوسٹر میں مسکراتی ہوئی چونم اپیل کررہی ہے کہ " اب کوئی بچہ مزدوری نہیں، کیونکہ یہ تعلیم اور پھلنے پھولنے کی عمر ہے"۔ لیکن دو بھائی اور چھ بہنوں والی چونم خود کبھی اسکول نہیں گئی ہے۔
چونم کےوالد بلیشور داس کا کہنا ہے کہ بچہ مزدوری کے خلاف مہم میں چونم کی تصوریر کا استعمال بغیر اجازت کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ غریب ہیں اور زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لۓ انہیں کافی جدو جہد کرنی پڑتی ہے۔ یونیسیف کے کمیونیکیٹر میتل روسدیا نے بلیشور کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ استعمال سے قبل اجازت لی گئی تھی ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا 'پوسٹر گرل' کا ابھی بھی بچہ مزدور بنے رہنا بچہ مزدوری کے خلاف چلا گئی مہم کی ناکامی کی مثال ہے تو انکا کہنا تھاکہ "اس تصویر کی مدد سے بچہ مزدوری کی حقیقت سامنے آئی ہے"۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ خود یونیسیف بھی چونم کی طرف توجہ نہیں دے رہی ہے۔ لیکن یونیسیف کا کہنا ہے کہ بچہ مزدوروں کی بحالی کی ذمہ داری اس کی نہیں ہے۔ محترمہ روسیدہ نے کہاکہ "ہم لوگ بچہ مزدوری کے خلاف بیداری کے لیے مہم چلا تے ہیں انکی بحالی ہمار کام نہیں۔' اس وقت پورے ملک میں ایک کروڑ جھبیس لاکھ سے زیادہ بچے مزدوری کر رہے ہیں۔ اس میں سے بیشتر ہوٹلزاور ریستوراں میں کام کرتے ہیں۔ بہت سے والدین کا کہنا ہے کہ غربت کے سبب وہ اپنے بچوں سے کام کرانے پر مجبور ہیں۔ عام طور پر ان بچوں کو بہت دیر تک اور ایسے حالات میں کام کرنا پڑتا ہے جو انکی صحت کے لیے مضر ہیں۔ | اسی بارے میں اترپردیش میں چوالیس بچے ہلاک30.11.2002 | صفحۂ اول بچپن کی شادی،جنسی زیادتی21.01.2003 | صفحۂ اول تمل ناڈو: بچوں کا جنسی استحصال05.05.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||