کشمیر: پانچ دھماکے، پانچ زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرینگر اور اس کےگرونواح میں ہونے والے پانچ دھماکوں میں پولیس حکام کے مطابق پانچ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ یہ دھماکے اس وقت ہوئے ہیں جب ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کی ریاستی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے۔ پہلا دھماکہ انتہائی کڑے سکیورٹی حصار والے اسمبلی ہال سے تین سو گز کے فاصلے پر ہوا جس میں ایک راہگیر زخمی ہو گیا۔ بعد ازاں اسمبلی کاروائی برخاست ہوجانے کے بعد شہر کے گردونواح میں مزید چار بم دھماکے ہوئے جن میں چار شہری زخمی ہوگئے۔ دھماکوں کے فوراً بعد شہر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی اور پولیس و فورسز اہلکاروں نے راہگیروں اور مسافر بسوں کی تلاشی شروع کر دی۔ تاہم پولیس حکام کا دعوٰی ہے کہ شہر میں موجود عسکریت پسند اب ہتھیار ضائع کررہے ہیں کیونکہ بقول ان کے پولیس کے حفاظتی انتظامات کی وجہ سے انہیں حملوں کا موقعہ نہیں مل رہا۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس فاروق احمد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ’ہماری حکمت عملی کامیاب ہو رہی ہے اور اب تو شدت پسند دستی بم ضائع کر رہے ہیں۔ آج جو پانچ دھماکے ہوئے ان میں بہت کم نقصان ہوا‘۔ اس سے قبل اسمبلی اجلاس تقریر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے کہا کہ تشدد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے حالات میں بہتری کے لیے سکیورٹی فورسز کو سراہا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس سال حراستی قتل یا گمشدگی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صرف دو سو بہتّر افراد کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومت ہند کی وزارت داخلہ کے ساتھ کئی نوجوانوں کی رہائی کا معاملہ اُٹھا چکے ہیں اور انہیں عنقریب رہا کیا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں لشکر کے کمانڈر کی ہلاکت کا دعوٰی18 July, 2007 | انڈیا انڈین کشمیر: چار شدت پسند ہلاک17 July, 2007 | انڈیا ’ فوج خوف سے آزادی کے لیے‘15 July, 2007 | انڈیا ’اندرونی خلفشار سے امن کو خطرہ‘12 July, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||