’ فوج خوف سے آزادی کے لیے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کا کہنا ہے کہ کشمیر میں فوج کی موجودگی لوگوں کو’خوف سے آزادی‘ دلانے کے لیے ضروری ہے۔ جموں میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منموہن سنگھ کا کہنا تھا کہ ’سکیورٹی کا مطلب خوف سے آزادی ہے اور یہی ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جامع حفاظتی انتظامات کے پیچھے یہی احساس کار فرما ہے کیونکہ ہم لوگوں کے دلوں اور ذہنوں پر فتح چاہتے ہیں‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’خوف سے آزادی‘ کا مقصد ’تشدد اور دہشت گردی‘ کے مکمل خاتمے سے قبل حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ منموہن سنگھ کا کہنا تھا کہ سکیورٹی خطرات کے باوجود پاکستان کے ساتھ مذاکراتی عمل جاری رکھا جائے گا کیونکہ بقول ان کے بات چیت کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ انہوں نے پاکستان کے اندرونی حالات پر کوئی رائے زنی کرنے سے گریز کیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ’ ہم سکیورٹی کی دشواریوں کے باوجود پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھیں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ مذاکرات نفرت کی ساٹھ سالہ تاریخ کو بدل دیں اور مشترکہ ترقی کے باہمی تعاون کے نئے عہد کی بنیاد ڈالے‘۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کشمیر کی علیٰحدگی پسند قیادت کو ایک بار پھرگول میز کانفرنس میں شرکت کی براہ راست دعوت دی۔ ڈاکٹر سنگھ نے علیٰحدگی پسندوں کے کسی بھی دھڑے کا نام لیے بغیر کہا کہ’پچھلے ایک سال کے دوران منعقد ہوئی گول میز کانفرنسوں میں بعض لوگوں نے شرکت نہیں کی۔ میں امید کرتا ہوں کہ وہ اس بار اس تاریخی موقعہ کو ضائع نہیں کریں گے کیونکہ گول میز کانفرنس کشمیریوں کے تمام مسائل کا حل ڈھونڈنے کےلئے ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے‘۔
مسئلہ کشمیر سے متعلق اپنے خیالات کا اعادہ کرتے ہوئے انڈین وزیراعظم نے کہا کہ وہ جموں کشمیر کی جغرافیائی تقسیم کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’سرحدوں کو بدلا نہیں جاسکتا ، لیکن ہم ان کو غیر متعلق بنا سکتے ہیں‘۔ڈاکٹر سنگھ نے خواہش ظاہر کی کہ جموں کشمیر دونوں ملکوں کے درمیان امن، ترقی اور تعاون کا ایک خوشگوار رابطہ ثابت ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ جموں کی ایک مقامی یونیورسٹی کے زیراہتمام ایک تقریب میں شرکت کے لیے وادی میں آئے ہیں۔ اس تقریب کا اہتمام یونیورسٹی انتظامیہ نے انہیں ’ڈاکٹر آف لیٹرز‘ کی اعزازی ڈگری سے نوازنے کے لیے کیا تھا۔ وہ دس جولائی کو جموں و کشمیر کا دورہ کرنے والے تھے ، لیکن سابق بھارتی وزیراعظم چندر شیکھر کے انتقال کی وجہ ان کے دورے میں پانچ روز کی تاخیر ہوئی۔ ان کی آمد پر جموں شہر میں سکیورٹی کے کڑے انتظامات کیےگئے تھے۔ | اسی بارے میں کشمیر: افواج ہٹانے پرغور04 July, 2007 | انڈیا سرکاری اور غیر سرکاری یوم شہداء13 July, 2007 | انڈیا ’اندرونی خلفشار سے امن کو خطرہ‘12 July, 2007 | انڈیا عمر عبداللہ پر کپوارہ میں حملہ09 July, 2007 | انڈیا کشمیر: طالب علم کی ہلاکت، مظاہرے07 July, 2007 | انڈیا ’وزیر اعلیٰ آزاد براہِ راست ذمہ دار‘03 July, 2007 | انڈیا کشمیر: خاتون فوجی افسر کی خود کشی02 July, 2007 | انڈیا فرضی جھڑپ: کپواڑہ میں مظاہرے02 July, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||