ریاض مسرور بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر |  |
 | | | وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد اور مفتی محمد سعید نے تقریب میں اکٹھے شرکت کی |
تیرہ جولائی کو ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں ہند نواز اور ہند مخالف قوتیں ’یوم شہدا‘ کے طور مناتی ہیں۔ حکومت اس روز ’شہداء‘ کے مشن کی کامیابی پر تعطیل کا اعلان کرتی ہے جبکہ علیٰحدگی پسند ’شہداء کے ادھورے مشن‘ پر تجدیدِ عہد کے طور ہڑتال کی کال دیتے ہیں۔ مؤرخین کا کہنا ہے کہ اُنیس سو اکتیس میں اسی دن سرینگر کی سینٹرل جیل میں ڈوگرہ مہا راجہ کی افواج نے ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران فائرنگ کر کے متعدد کشمیریوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس حوالے سے جہاں سرکاری طور عام تعطیل رہی وہیں علیٰحدگی پسندوں کی کال پر ہڑتال بھی کی گئی۔ معمول کے مطابق اس سال بھی پائین شہر میں واقع ’مزارِ شہداء‘ پر وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد، اپوزیشن رہنما عمر عبداللہ اور علیٰحدگی پسندوں نے باری باری حاضری دے کر ’شہدا‘ کے مشن کی آبیاری کا عزم کیا۔ مفتی محمد سعید بھی وزیراعلیٰ کے ساتھ تھے۔ اس دوران علیٰحدگی پسند رہنماء سید علی گیلانی کی کال پر کشمیر اور جموں کے بعض مسلم آبادی والےمقامات پر ہڑتال رہی۔ سول سیکریٹریٹ، سرکاری محکموں کے دفاتر، بنک اور دیگر کاروباری ادارے بھی تعطیل کی وجہ سے بند رہے۔
 | | | حریت کانفرنس کے کئی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا |
مسٹر گیلانی کو پولیس نےگزشتہ رات اپنے گھر میں نظر بند کر دیا۔ ان کی قیادت والی حریت کانفرنس کے ترجمان ایاز اکبر نے بی بی سی کو بتایا کہ گیلانی صاحب کو مزارِ شہداء جانے سے روک دیا گیا ہے۔ ’حکومت کو خدشہ تھا کہ گیلانی صاحب وہاں پہنچیں گے تو لوگوں کی بڑی تعداد آزادی کے حق میں جمع ہوجائے گی۔‘حزب اختلاف نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ نے اس موقعہ پر اپنی تقریر کہا کہ پاکستان کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کو نامساعد حالات کے باوجود امن عمل کے اپنے قول پر ڈٹے رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا ’پاکستان میں اب وہی کچھ ہورہا ہے جو ہمارے یہاں ہوا تھا۔ یہاں حضرت بل میں جنگجو تھے تو آستانے کا طویل محاصرہ کیا گیا۔ چرار شریف کی خانقاہ ایک جنگجو تصادم میں خاکستر ہوئی۔ لیکن جو بھی ہو مشرف صاحب کو ان حالات سے نہیں گھبرانا چاہیے۔‘ دریں اثناء میر واعظ عمر فاروق نے بھی نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد سے مزار شہداء تک جلوس نکالنے کی کوشش کی توان کے حامیوں اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا۔ ان کے کئی کارکنوں کا حراست میں لیا گیا، لیکن وہ ہزاروں کارکنوں کے ساتھ جامع مسجد سے مزار شہداء پہنچنے میں کامیاب رہے۔  | | | مختلف جگہوں پر جلوس بھی نکالے گئے |
جلوس میں میرواعظ کے حامی اسلام، آزادی اور پاکستان کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے۔ میرواعظ عمر فاروق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم سنٹرل جیل کے باہر اسی مقام پر ایک مینارِ شہداء تعمیر کرنا چاہتے تھے۔ مقامی لوگوں نے اس کےلیے تعاون پیش کیا تھا۔ لیکن حکومت نے راتوں رات یہاں پارک بنانے کا کام شروع کیا جو کشمیریوں کے خلاف ایک سازش ہے۔‘ معروف مؤرخ اور مصنف فدا محمد حسنین نے بی بی سی کو تیرہ جولائی کی تاریخی اہمیت کے حوالے سے بتایا کہ اُنیس سو اکتیس میں اس روز ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں ایک غیر ریاستی انقلابی عبدالقدیر کے مقدمہ کی سماعت سنٹرل جیل میں ہو رہی تھی۔ سماعت کے دوران نعرے بازی ہوئی جس پر ڈوگرہ فوج نے لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کی اور سینکڑوں افراد کو ہلاک کردیا۔ اس حوالے سے علیٰحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ تیرہ جولائی اُنیس سو اکتیس آزادی کی تحریک کا اہم مرحلہ تھا، جہاں سے عوام میں مزاحمتی رجحان بیدار ہوا۔ تاہم ہند نواز رہنماؤں کا خیال ہے کہ اس روز کو جمہوریت کی بحالی کے لیے دی گئی قربانیوں کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے، کیونکہ بقول ان کے ان قربانیوں کی وجہ سے متعلق العنان ڈوگرہ مہاراجہ عوامی حکومت کے تصور کو ماننے پر مجبور ہوگیا اور اس نے شیخ محمد عبداللہ کو ہنگامی منتظم تعینات کر کے عوامی حکومت کا مطالبہ مان لیا۔  | | | یوم شہداء پر بازار بند رہے |
لیکن بعض مبصرین حکومت کی طرف سے علیٰحدگی پسندوں پر اس روز پابندیاں عائد کرنے کو سیاسی مقابلہ آرائی کا حصہ مانتے ہیں۔ مؤرخ فدا حسنین کہتے ہیں ’چونکہ جموں و کشمیر ایک مسلم اکثریتی خطہ ہے، یہاں عوام کی ہمدردیاں بٹورنے کے لیے یوم شہداء کو تمام سیاسی قوتیں استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ ان کے لیے یہ ایک مقابلے کا دن ہوتا ہے۔‘ میرواعظ عمر کی قیادت والی حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء نعیم احمد خان کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ خود تو پورے سرکاری بندوبست کے ساتھ مزار شہداء میں حاضری دیتے ہیں۔ ’لیکن جب ہم لوگ یہی کام انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں گرفتار کیا جاتا ہے۔ یہ تو دوغلا پن ہے۔ اگر یوم شہداء منانا علیٰحدگی پسندی ہے تو آزاد، عمر عبداللہ اور مفتی کٹر علیٰحدگی پسند ہیں۔‘ |