BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 June, 2007, 10:58 GMT 15:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر ٹرین تین سال لیٹ ہوگئی

ٹرین
’ٹرین کے ڈبے جموں سرینگر شاہراہ سے لانے میں دشواریوں کا سامنا ہے‘
ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر میں جموں سے سرینگر تک ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ تین سال کی تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔

یہ منصوبہ رواں سال کے آخر تک مکمل ہونا تھا تاہم اس پروجیکٹ کے نگران ادارہ ’ارکان انٹرنیشنل لمیٹڈ‘ کے ذمہ دار افسران کے مطابق متعدد دشواریوں کی وجہ سے اب یہ منصوبہ سنہ دو ہزار نو کے آس پاس ہی مکمل ہو سکے گا۔

جموں صوبہ کے ادھمپور علاقے سے سرینگر تک تین مراحل میں تیار ہونے والی دو سو بانوے کلومیٹر لمبی ریلوے لائن پر ابتدائی تخمینہ کے مطابق چھ ہزار دو سو کروڑ روپے خرچ آنا تھا تاہم منصوبے میں تاخیر اور افراطِ زر کی وجہ سے لاگت کا تخمینہ اب دس ہزار کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔

ہندوستان کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اور موجودہ وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے بھی کشمیر میں اپنے الگ الگ دوروں کے دوران یہ اعلان کیا تھا کہ دو ہزار سات کے آخر تک کشمیر کو ہندوستان کے ریلوے نقشہ پر لایا جائے گا۔

جنوبی کشمیر میں قاضی گنڈ سے شمالی کشمیر کے بارہ مولہ ضلع تک ایک سو اُنیس کلومیٹر لمبی ریلوے لائن بچھانے کا کام دو ہزار پانچ سو کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے ڈائریکٹر مسٹر کھانرہ نے بی بی سی کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا ’جموں کشمیر جیسے دشوار گزار خطے میں ٹرین چلانا بچوں کا کھیل نہیں‘ جبکہ منصوبے کے جنرل منیجر آر وی آنند کا کہنا ہے کہ مقامی حکومت کی طرف سے زمین کی فراہمی اور زمینداروں کو معاوضہ دینے کا عمل منصوبہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

 کشمیر کی ریلوے لائن جموں کشمیر کو دو حصوں میں بانٹنے والی کنٹرول لائن کے قریبی علاقوں سوپور، بارمولہ اور پیر پنجال کے دیہات سے ہو کرگزرے گی اور اگر ٹرین ہوگی تو فورسز کو ہنگامی حالات میں فوری طور موبلائز کرنے میں آسانی ہوگی۔
جیوتی پٹھانیہ

ان کا کہنا تھا کہ زمینوں کے حصول کے علاوہ ریلوے سٹیشنوں تک شاہراہوں کو ہموار اور ٹریفک کے قابل بنانا بھی بہت بڑا کام ہے جو ابھی تک شروع بھی نہیں ہوا۔ واضح رہے کہ قاضی گنڈ سے بارہ مولہ تک پندرہ ریلوے سٹیشن ہوں گے، جن کو مقامی علاقوں کے ساتھ ملانے کے لیے بڑے پیمانے پر سڑکوں کا جال بچھانے کی ضرورت ہے۔

حکام کو اس حوالے سے سکیورٹی کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ آر وی آنند کا کہنا ہے کہ دو سال قبل ایک انجینئر کے اغواء اور بعد میں قتل کی واردات سے پورا عملہ عدم تحفظ کا شکار ہوگیا تھا۔ وہ کہتے ہیں ’ ہم نے حکومت سے کہا تھا کہ انجینئروں کی بحفاظت نقل وحرکت کے لیے نیم فوجی دستوں کی کم از کم اٹھارہ کمپنیاں مہیا کی جائیں، لیکن صرف آٹھ کمپنیوں کو تعینات کیا گیا۔ اسی طرح سے ہم نے سینئر انجنیئروں کی ذاتی حفاظت کے لیے ایک سو چالیس سکیورٹی افسر مانگے لیکن صرف ستّر کی ڈیوٹی لگائی گئی‘۔

حکام کو ٹرین منصوبے کے حوالے سے سکیورٹی کا مسئلہ بھی درپیش ہے

انتظامی امور اور سکیورٹی کے علاوہ جموں کشمیر کے جغرافیائی حالات بھی ریلوے منصوبے کی تکمیل میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ایک افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ٹرین کے ڈبے جموں سرینگر شاہراہ سے لانے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ پچھلے دنوں اٹھارہ پہیوں والے پلیٹ فارم ٹرک پر جب ٹرین بوگی کو سرینگر لایا جا رہا تھا تو وہ پلیٹ فارم سے لڑھک گئی۔

مذکورہ افسر نے مزید بتایا کہ ڈبوں کو جہاز میں لایا جانا ضروری تھا، لیکن ہندوستان کے پاس اس قدر کشادہ جہاز نہیں ہیں جن میں ٹرین کی بوگیاں لائی جا سکیں۔

حکومت نے کشمیر کے ریلوے پروجیکٹ کو ریاست کی معاشی ترقی کا ضامن قرار دیا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر کشمیر میں ٹرین کا تجربہ کامیاب رہا تھا وادی براہ راست ہندوستان کے ساتھ جڑ جائے گی اور سرینگر اور ہندوستان کی دیگر ریاستوں کے درمیان سفر کی مدت چھ سے سات دن سے کم ہو کر ایک یا دو دن تک رہ جائے گی۔

کشمیری شہری ریلوے لائن پر بیٹھے ہوئے ہیں

بعض دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ کشمیر ریلوے پروجیکٹ ہندوستان کی داخلی سکیورٹی کے لیے بھی اہم ہے۔ جموں کی صحافی جیوتی پٹھانیہ کے مطابق کشمیر کی ریلوے لائن جموں کشمیر کو دو حصوں میں بانٹنے والی کنٹرول لائن کے قریبی علاقوں سوپور، بارمولہ اور پیر پنجال کے دیہات سے ہو کرگزرے گی اور’ اگر ٹرین ہوگی تو فورسز کو ہنگامی حالات میں فوری طور موبلائز کرنے میں آسانی ہوگی‘۔ ان کا خیال ہے کہ نامساعد حالات میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحد پر افواج جمع کرنے میں بھی کشمیر ریلوے بہت کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔

کچھ مبصرین کا یہ بھی خیال ہے کہ کشمیر کی کلیدی میوہ صنعت کو بھی ریل رابطہ سے کافی فائدہ ہوگا۔ واضح رہے وادی میں تقریباً پانچ لاکھ افراد کا روزگار میوہ کی کاشت پر منحصر ہے۔ مقامی تاجر بشیر احمد نے بی بی سی کو بتایا’اس وقت سفر کی دقتوں کی وجہ سے تقریباً تیس فیصد فصل ضائع ہو جاتی ہے۔ اگر سفر مختصر ہوجائے تو جدید سٹوریج نہ ہونے کے باوجود ہم زیادہ سے زیادہ مال باہر بھیج سکتے ہیں‘۔

کشمیری صحافی محمد طاہر سعید کا خیال ہے ہندوستان کشمیر کو وسط ایشیا کے ساتھ مفید رابطہ کا دروازہ سمجھتا ہے۔ سعید کہتے ہیں’افغانستان، پاکستان اور اس سے آگے وسط ایشیا ہندوستان کے لیے بہت اہم ہے۔ اس ملک کو توانائی کے درآمدات کے لئے محفوظ راہداریاں درکار ہوں گی۔ اگر افغانستان کے ساتھ بھی کسی ریل رابطہ کی گنجائش بنتی ہے تو حکومت ہند ضرور اس پر غور کر رہی ہوگی‘۔

اسی بارے میں
ریلوے بجٹ: کرائے میں کمی
26 February, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد