BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 June, 2007, 09:40 GMT 14:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر : ’مارشل لاء کے حالات‘

پچھلے سترہ سال کے عرصہ میں ہوئی ہلاکتوں اور زیرحراست گمشدگیوں کی تفصیلی تفتیش کرنے کی بھی وکالت کی گئی ہے۔
ہندوستان کی سرگرم انسانی حقوق تنظیموں نے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے روزمرہ انتظامی امور میں فوج کی مداخلت کو ’غیر اعلانیہ مارشل لاء‘ قرار دیا ہے۔

آندھرا پردیش، کرناٹک اور نئی دلّی سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے رضاکاروں کے ایک گیارہ رکنی وفد نے مئی کے پہلے ہفتے کے دوران وادی کشمیر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد یہ انکشاف اپنی عبوری رپورٹ میں کیا ہے۔

نامہ نگاروں کو ’ای میل‘ کے ذریعہ ارسال کی گئی اس رپورٹ میں وفد نے کشمیر میں بھاری فوجی موجودگی کے باعث پیدا ہونے والے مسائل کا احاطہ کیا ہے اور کہا ہے کہ موجودہ صورتحال ’غیراعلانیہ مارشل لاء‘ کے مترادف ہے۔

رپورٹ کے مطابق سرینگر میں شام دیر گئے تک لوگوں کی نقل وحرکت رہتی ہے لیکن دیہات میں فوج کی اجازت کے بغیر لوگ کوئی سماجی یا تجارتی سرگرمی نہیں کرسکتے۔

وفد نے اپنی عبوری رپورٹ میں فوجی زیادتیوں کا سنگین نوٹس لیتے ہوئے بغاوت کو کچلنے کے لیے کی جانے والی کارروائیوں کے دوران احتیاط برتنے سے متعلق مرکزی حکومت کو کئی سفارشات بھی پیش کی ہیں۔

رپورٹ میں فوج یا نیم فوجی دستوں کے ہاتھوں فرضی جھڑپ یا ٹارچر کے دوران ہلاکت کی واردات پر ملوث اہلکاروں کے خلاف ’نسل کشی‘ کا معاملہ درج کرنے اور کیس کسی غیر جانبدار تفتیشی ادارے کے سپرد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں جنگجوؤں کے خلاف فوجی مہم کے دوران شہریوں کو ڈھال بنانے جیسے واقعات کا بھی نوٹس لیا گیا ہے۔

سفارشات میں بتایا گیا ہے کہ کسی بھی گاؤں یا بستی کا محاصرہ کرتے وقت لاؤڈسپیکر کے ذریعہ یہ اعلان کیا جائے کہ تمام لوگ تب تک گھروں میں ہی بیٹھے رہیں جب تک جنگجوؤں کے خلاف آپریشن ختم نہیں ہوجاتا، اور اگر اس دوران ڈھال بنانے کی وجہ کسی شہری کی موت ہوجاتی ہے، تو ملوث فوجی یونٹ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔ پچھلے سترہ سال کے عرصہ میں ہوئی ہلاکتوں اور زیرحراست گمشدگیوں کی تفصیلی تفتیش کرنے کی بھی وکالت کی گئی ہے۔

سفارشات میں بتایا گیا ہے کہ شہروں اور دیہاتوں میں شہریوں کو آزادانہ نقل وحمل کے بھرپور مواقع فراہم کئے جائیں۔

رپورٹ میں سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئےحکومت ہند کو خبر دار کیا گیا ہے کہ، ’وہ تنازعہ کشمیر حل کرنے کے عمل کو سیاسی کھیل نہ سمجھے اور یہ مان لے کہ جموں کشمیر کا ہندوستان کے ساتھ الحاق متنازعہ ہے۔‘ سفارشات میں حکومت ہند پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جموں کشمیر کے لوگوں کو تصفیہ کے عمل میں برابر کا فریق سمجھ کر انہیں اس عمل میں باقاعدہ شریک کرے۔

وادی کشمیر کے دورے پر آئے اس وفد میں آندھرا پردیش ہیومن رائٹس فورم کے ڈاکٹر کے بالاگوپالن، ڈاکٹر بی رامالو اور وی ایس کرشنا شامل تھے۔ آندھرا پردیش سے ہی صحافی رام موہن کے علاوہ سول لبرٹریز کمیٹی کے ڈاکڑ سریش کمار اور اے سری نواس جبکہ کرناٹک سے پروفیسر ین با بھیا، پروفیسر جی کے راماسوامی، ڈاکٹر وی ایس سری دھر اور جی چیتن بھی وفد کا حصہ تھے۔ نئی دلّی کے سینٹر فار دی سٹیڈی آف ڈیولپنگ سوسائٹیز کی ڈاکٹر بیلا بھاٹیا بھی وفد میں شامل تھیں۔

وفد کے بیان کے مطابق کشمیر کی صورتحال سے متعلق وہ عنقریب ایک جامع دستاویز شائع کرینگے، جس میں تمام امور پر بحث اور سدھار کےلئے سفارشات بھی شامل ہونگی۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ ہندوستان کے نسبتاً پرامن ریاستوں کے سول سوسائٹی نمائندوں نے کشمیر میں ہورہی انسانی حقوق کی پامالیوں کا اسقدر سنجیدہ نوٹس لیا ہو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد