آتشزدگی: یو این کا الزام مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں پولیس نے اس امکان کو یکسر رد کردیا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقے باغ میں اقوام متحدہ کے دو افسروں کی رہائش گاہ کو باہر سے کسی نے جان بوجھ کر آگ لگائی تھی۔ اس سے پہلے اقوام متحدہ نے اس آتشزدگی کے واقعہ کی ذمہ داری نامعلوم مقامی افراد پر عائد کی تھی اور اسے اپنے اہلکاروں کی رہائش گاہ پر حملہ قرار دیا تھا اور متاثرہ علاقے باغ تحصیل میں اپنا کام عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔ پولیس کی یہ تحقیقات اس ماہ کی سات تاریخ کو کشمیر کے علاقے میں باغ شہر میں اقوام متحدہ کے دو افسروں کی رہائش گاہ میں آگ لگنے کے واقعہ کے بارے میں ہے۔ آتشزدگی کے واقعہ کے دو دن بعد اقوام متحدہ نے سکیورٹی اور کشیدہ صورت حال کو وجہ بتاتے ہوئے باغ تحصیل میں اپنی سرگرمیاں دو ہفتے کے لیے معطل کردی تھیں۔ اقوام متحدہ نے اس آتشزدگی کا الزام ایسے نامعلوم مقامی لوگوں پر عائد کیا تھا جو ان کے بقول امدادی تنظیموں سے نالاں ہیں۔ اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ بعض مقامی لوگ امدادی تنظیموں میں مقامی خواتین کی موجودگی کے باعث ناراض ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو ملازمتیں نہ ملنے کی وجہ سے ان تنظیموں کے مخالف ہو گئے ہیں۔
پولیس نے اس امکان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ آگ یا تو لاپرواہی کی وجہ سے لگی ہے یا پھر اندر سے کسی نے خود لگائی ہے۔ پولیس تحقیقات کے نتائج اقوام متحدہ کے الزام کے بالکل برعکس ہے۔ اسلام آباد میں اقوام متحدہ کی ترجمان رابعہ امجد نے پولیس کی تحقیقات کے نتائج پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا ان کا ایک مشن تحقیقات کے لیے علاقے میں گیا ہے اور اس کی رپورٹ آنے کے بعد ہی وہ کچھ کہہ سکیں گی۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ تحقیقات سے قبل ہی اقوام متحدہ نے آتشزدگی کے واقعہ کی ذمہ داری بعض نامعلوم مقامی لوگوں پر کیوں عائد کی تھی تو ان کا کہنا تھا کہ تمام شواہد اسی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید بات نہیں کی اور فون بند کردیا۔ لیکن کشمیر کے علاقے میں آتشزدگی کے اس واقعہ پر اقوام متحدہ کے ابتدائی بیان پر شدید رد عمل پایا جارہا ہے۔ قانون ساز اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما سردار قمرالزماں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے متاثرہ علاقوں میں اپنی ناقص کارکردگی کو چھپانے کے لیے مقامی لوگوں پر اس طرح کا جھوٹا اور بے بنیاد الزام عائد کیا۔ جبکہ جماعت اسلامی کے سربراہ اعـجاز افضل نے کہا کہ اقوام متحدہ نے کھل کر مسلم دشمنی کا اظہار کیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی تنظیموں اور مقامی لوگوں کے درمیان خواتین کی بھرتی کے معاملے پر کافی عرصے سے ایک تناؤ کی سی کیفیت ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے مقامی خواتین کو تو ملازمتیں فراہم کی جاتی ہیں جبکہ مقامی مردوں کو نظر انداز کر کے پاکستان کے دوسرے علاقوں سے مرد بھرتی کیے جاتے ہیں۔ وہ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ مقامی مردوں کو ملازمتیں فراہم کی جائیں۔ اسی دوران اقوام متحدہ نے کہا کہ حکام کی طرف سے سکیورٹی کی یقین دہانی کے بعد اس نے باغ تحصیل میں دو ہفتے کے تعطل کے بعد اپنی سرگرمیاں آہستہ آہستہ بحال کرنا شروع کردی ہیں۔ | اسی بارے میں امداد نہیں ملی: احتجاجی مظاہرہ11 November, 2005 | پاکستان دارالحکومت مظفر آباد میں نہیں ۔۔۔01 March, 2007 | پاکستان نئے دارالحکومت کیلیے رقم نہیں 07 March, 2007 | پاکستان بیروزگاری کے باعث خود کشی13 March, 2007 | پاکستان سرحد، کشمیر: بارشیں، بیس ہلاک20 March, 2007 | پاکستان ’گستاخی کا الزام، بلا تحقیق برطرفی‘ 30 March, 2007 | پاکستان پاکستانی کشمیر: نمبردار کا اغواء20 April, 2007 | پاکستان ’کشمیر جہاد فنڈ پر پابندی نامنظور‘05 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||