پاکستانی کشمیر: نمبردار کا اغواء | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنڑول کے قریب ایک علاقے کے نمبردار محمد بشیر کو جمعرات کو نامعلوم افراد نے شہر کوٹلی سے اغواء کر لیا ہے۔ ان کے خاندان والوں نے اغواء کا الزام پاکستان کے خفیہ اداروں پر عائد کیا ہے۔ محمد بشیر کے خاندان والوں کا کہنا تھاکہ ان کو دن دھاڑے کئی افراد کی موجودگی میں کوٹلی شہر کے لاری اڈے سے اغواء کیا گیا۔ محمد بشیر کنڑول لائن کے قریب واقع کئی چھوٹے گاؤں پر مشتمل علاقے کٹھار فندیوٹ کے نمبردار ہیں۔ ان میں تین گاؤں رڈ، کٹھار اور بٹالی بھی شامل ہیں۔ محمد بشیر ایک ایسے علاقے کے نمبردار ہیں جہاں کئی افراد کا کہنا ہے کہ ان کے عزیز لاپتہ ہیں اور وہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ خفیہ اداروں کی حراست میں ہیں۔ علاقے کے کئی افراد کا کہنا ہے کہ ان کے عزیز لاپتہ ہیں اور وہ ان کے اغواء کے لیے خفیہ ادراوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ محمد بشیر علاقے کے لاپتہ افراد کی رہائی کے لیے کوششیں کر رہے تھے اور حال ہی میں انہوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کے علاقے کے تین گاؤں میں سے چند سال کے دوران مختلف اوقات میں پندرہ افراد کو خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اغواء کیا جو ابھی تک ان کی تحویل میں ہیں۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے لاپتہ افراد کی تعداد بیس بتاتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے۔ محمد بشیر کے بھانجے شہزاد گلشن نے مقامی پولیس سٹیشن میں بھی ایک درخواست دی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس آٹھ سے دس افراد ان کے ماموں کو زبردستی گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔ انہوں نے بتایا کہجب انہوں نے اپنے ماموں کو چھڑانے کی کوشش کی تو ان لوگوں نے سنگین نتائج کی دھمکی دی اور کہا کہ وہ ریاستی خفیہ ادارے کے اہلکار ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تحریری درخواست کے باوجود پولیس باقاعدہ رپورٹ درج کرنے سے گریز کر رہی ہے اور وہ اس کی وجہ نہیں بتا رہی ہے۔ محمد بشیر کی بیٹی سفینہ شاہین کا کہنا ہے کہ ان کے والد کو چند دنوں سے خفیہ ادراوں کے اہلکاروں کی طرف سے دھمکی آمیز فون آ رہے تھے کہ وہ لاپتہ لوگوں کا معاملہ نہ اٹھائیں کیونکہ اس سے بدنامی ہورہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد کو لاپتہ افراد کے لیے آواز بلند کی سزا دی جارہی ہے۔ |
اسی بارے میں ’کشمیر پر قراردادیں بےکار‘19 December, 2006 | پاکستان ’کشمیر سے دستبردار ہونے کو تیار ہیں‘05 December, 2006 | پاکستان ’کشمیر پالیسی میں تبدیلی نہیں‘26 December, 2006 | پاکستان ’کشمیر جہاد فنڈ پر پابندی نامنظور‘05 February, 2007 | پاکستان کشمیری شدت پسند دباؤ میں ہیں07 February, 2007 | پاکستان کشمیر میں بھی وکلاء سڑکوں پر 13 March, 2007 | پاکستان کشمیر: تودہ گرنے سے آٹھ افراد ہلاک22 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||