BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی کشمیر: نمبردار کا اغواء

نمبر دار محمد بشیر
محمد بشیر کے اہل خانہ نے اغواء کا الزام پاکستان کے خفیہ اداروں پر عائد کیا ہے
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنڑول کے قریب ایک علاقے کے نمبردار محمد بشیر کو جمعرات کو نامعلوم افراد نے شہر کوٹلی سے اغواء
کر لیا ہے۔

ان کے خاندان والوں نے اغواء کا الزام پاکستان کے خفیہ اداروں پر عائد کیا ہے۔

محمد بشیر کے خاندان والوں کا کہنا تھاکہ ان کو دن دھاڑے کئی افراد کی موجودگی میں کوٹلی شہر کے لاری اڈے سے اغواء کیا گیا۔

محمد بشیر کنڑول لائن کے قریب واقع کئی چھوٹے گاؤں پر مشتمل علاقے کٹھار فندیوٹ کے نمبردار ہیں۔ ان میں تین گاؤں رڈ، کٹھار اور بٹالی بھی شامل ہیں۔

محمد بشیر ایک ایسے علاقے کے نمبردار ہیں جہاں کئی افراد کا کہنا ہے کہ ان کے عزیز لاپتہ ہیں اور وہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ خفیہ اداروں کی حراست میں ہیں۔
محمد بشیر کے اغواء کے بعد شہر کوٹلی میں سینکڑوں افراد نے مظاہرہ کیا جس میں محمد بشیر کے خاندان والے بھی شریک ہوئے۔ مظاہرین محمد بشیر سمیت دیگر لاپتہ ہونے والے افراد کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان لاپتہ افراد کے خاندان والوں نے بھی جمعرات کے مظاہرے میں شرکت کی اور وہ محمد بشیر سمیت اپنے عزیزوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

 والد کو چند دنوں سے خفیہ ادراوں کے اہلکاروں کی طرف سے دھمکی آمیز فون آ رہے تھے کہ وہ لاپتہ لوگوں کا معاملہ نہ اٹھائیں کیونکہ اس سے بدنامی ہورہی ہے۔ والد کو لاپتہ افراد کے لیے آواز بلند کی سزا دی جارہی ہے
محمد بشیر کی بیٹی سفینہ شاہین

علاقے کے کئی افراد کا کہنا ہے کہ ان کے عزیز لاپتہ ہیں اور وہ ان کے اغواء کے لیے خفیہ ادراوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

محمد بشیر علاقے کے لاپتہ افراد کی رہائی کے لیے کوششیں کر رہے تھے اور حال ہی میں انہوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کے علاقے کے تین گاؤں میں سے چند سال کے دوران مختلف اوقات میں پندرہ افراد کو خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اغواء کیا جو ابھی تک ان کی تحویل میں ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے لاپتہ افراد کی تعداد بیس بتاتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے۔

محمد بشیر کے بھانجے شہزاد گلشن نے مقامی پولیس سٹیشن میں بھی ایک درخواست دی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس آٹھ سے دس افراد ان کے ماموں کو زبردستی گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔ انہوں نے بتایا کہجب انہوں نے اپنے ماموں کو چھڑانے کی کوشش کی تو ان لوگوں نے سنگین نتائج کی دھمکی دی اور کہا کہ وہ ریاستی خفیہ ادارے کے اہلکار ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تحریری درخواست کے باوجود پولیس باقاعدہ رپورٹ درج کرنے سے گریز کر رہی ہے اور وہ اس کی وجہ نہیں بتا رہی ہے۔

محمد بشیر کی بیٹی سفینہ شاہین کا کہنا ہے کہ ان کے والد کو چند دنوں سے خفیہ ادراوں کے اہلکاروں کی طرف سے دھمکی آمیز فون آ رہے تھے کہ وہ لاپتہ لوگوں کا معاملہ نہ اٹھائیں کیونکہ اس سے بدنامی ہورہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد کو لاپتہ افراد کے لیے آواز بلند کی سزا دی جارہی ہے۔

’آزاد‘ کشمیر میں لاپتہ۔۔۔لاپتہ ’آزاد‘ کشمیری
’چار ماہ سے ابو کی شکل نہیں دیکھی‘
’سب پاکستانی ہیں‘
سپین سے نکالے جانے والے تمام پاکستانی ہیں:حکام
ہیومن رائٹس رپورٹ
’آزاد‘ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں
تودوں کی زد میں
بارش میں پھنسے کشمیری خاندان
اسی بارے میں
’کشمیر پر قراردادیں بےکار‘
19 December, 2006 | پاکستان
کشمیری شدت پسند دباؤ میں ہیں
07 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد