BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 February, 2007, 14:56 GMT 19:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیری شدت پسند دباؤ میں ہیں

کشمیر شدت پسند
انڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان کے حمایت یافتہ شدت پسند اب بھی خطرہ ہیں
انڈیا سے آزادی کا مطالبہ کرنے والے ایک اتحاد آل پارٹیز حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے رہنما میر واعظ عمر فاروق نے پاکستان کے حالیہ دورے سے واپسی کے بعد مسلح جدوجہد روکنے کا مطالبہ کر کے ہلچل پیدا کر دی ہے۔

انہوں نے یہ بیان پہلی بار پاکستان کے دورے کے دوران دیا تھا جس پر مسلح راستے پر یقین رکھنے والوں نے انہیں اتنی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا کے انہیں تردید کرنی پڑی لیکن اب انہوں نے پھر اس بیان کی توثیق کر دی ہے۔

وہ مسلح راستے کی مذمت کیے بغیر امن کے عمل کو موقع دینے کی بات کر رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ فوجی حل سے تنازع کو نمٹایا نہیں جا سکتا۔

وہ واضح کرتے ہیں کہ فوجی حل کی حکمتِ عملی ناکام ہو چکی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ صدر مشرف بھی اس بات سے متفق ہیں اور پاکستان میں بہت سوں کا خیال ہے کہ کشمیر میں مسلح جدوجہد اگر ختم نہیں ہوئی تو رک ضرور گئی ہے۔

انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر میں کئی دہائی سے قوم پرست اور اسلام پسند آزادی کے حصول، تقسیم کے خاتمے یا پاکستان سے الحاق کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اب تک اس لڑائی میں 45 ہزار لوگوں کی ہلاکت کے باوجود کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہو سکا۔

اب کشمیری اور سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ پاکستان نے ان جہادیوں اور شدت پسندوں کی وہ امداد ختم کر دی ہے جسے وہ اعتراف کے باوجود ایک عرصے سے جاری رکھے ہوئے تھا۔

کشمیر
کشمیر میں ہلاکتیں اب بھی جاری ہیں لیکن گورنر کے مطابق جہاں دس ہلاک ہوتے تھے وہاں اب تین ہلاک ہو رہے ہیں

لائن آف کنٹرول سے آمد و رفت کو روکنے کے لیے پاکستان نے گزشتہ سال سے مؤثر اقدام کیے ہیں اور ایل او سی پر ایسے ایجنٹوں کو مقرر کیا جنہوں نے جہادیوں کے ساتھ کام کیا تھا یا انہیں پہچانتے ہیں۔ اس کے علاوہ جہادیوں کو دیے جانے والے فنڈز میں بھی کمی کی گئی۔

اس سلسلے میں جیشِ محمد کے ایک رکن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہم اب بھی لائن آف کنٹرول کے اس پار جاتے ہیں لیکن اب بہت کچھ نہیں کر پاتے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’حکومت (پاکستان) کی جانب سے حکمتِ عملی میں سو فیصد تبدیلی آئی ہے۔ اب وہ ہماری ایک فیصد بھی مدد نہیں کرتی بلکہ وہ ہمارے راستے میں رکاوٹ ڈالتے ہیں‘۔

پاکستان کے دارالحکومت مظفرآباد میں کہا جاتا ہے کہ آئی ایس آئی جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ مسلح جد و جہد میں جہادیوں کی مدد کرتی تھی اب ان کی شادیاں کرا رہی ہے اور کاروبار شروع کرنے میں مدد دے رہی ہے۔

میر واعظ عمر فاروق درمیان میں جن کے بیان نے ہلچل مچادی ہے

فوجی افسر نجی طور پر کہتے ہیں کہ ایسے تین کیمپ بنائے گئے ہیں جو سابق شدت پسندوں کو شہری زندگی شروع کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ خود بی بی سی کی نامہ نگار ایک ایسے عبوری کیمپ سے آگاہ ہے جو زلزلے کے بعد صوبہ سرحد میں قائم کیا گیا تھا۔

ایسا لگتا ہے کہ اس سلسلے میں انڈیا سے مفاہمت بھی شامل ہے۔ کشمیر میں انڈیا کے لیفٹیننٹ جنرل ایس ایس ڈھلون خبر رساں ادارے رائٹر کو بتا چکے ہیں کہ وہ (جہادی) بڑی رازداری سے لائن آف کنٹرول پر آتے ہیں اور سرنڈر کر دیتے ہیں۔ ’بلاشبہ یہ ایک نیا رحجان ہے‘۔

خود جہادی ذرائع بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران تقریباً ڈھائی سو جہادی واپس آئے ہیں۔

ان اقدام کا انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں شدت پسندی پر بھی اثر پڑا ہے اور گورنر سری نواس کمار سنہا کا کہنا ہے کہ 2001 سے ہلاکتوں دو تہائی کمی واقع ہوئی ہے اور اب دس کی جگہ تین ہلاکتیں ہوتی ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کشمری جہاد میں کمی صدر مشرف کی اس پالیسی کا حصہ جو انہوں نہ 11/9 کے بعد اپنائی ہے کیونکہ اگر وہ کشمیری جہاد کی حمایت جاری رکھتے تو ان پر دہشت گردی کی حمایت کا لیبل لگ سکتا ہے۔ اس سلسلے کو مزید تقویت اس وقت حاصل ہوئی جب جنرل مشرف پر 2003 میں وہ قاتلانہ حملہ کیا گیا جس میں شدت پسند ملوث تھے۔ اس کے علاوہ پاکستانی فوج کی اعلیٰ قیادت بھی بتدریج اس نتیجے پر پہنچ گئی کے انڈیا سے محاذ آرائی لا حاصل ہے۔

فوجی تجزیہ کار حسن عسکری رضوی کا کہنا ہے کہ ’صدر اور فوج کے اعلیٰ حلقوں نے اب یہ محسوس کر لیا ہے کہ اگر ملک پر مسلسل اقتدار قائم رکھنا ہے تو پاکستان کی معاشی حالت کو بہتر بنانا ہو گا اور معیشت اس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتی جب تک کہ انڈیا سے تعلقات بہتر نہیں ہوتے‘۔

اس طرح اگر کشمیر کا مسئلہ حل ہوتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ فوج ہی کو ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ صدر مشرف کشمیر کے مفاہمتی حل کی بات کرنے لگے ہیں لیکن تا وقت انڈیا نئی تجویز اور بین السرحدی در اندازی میں کمی سے غیر متاثر نظر آتا ہے۔

انڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان کے حمایت یافتہ شدت پسند اب بھی خطرہ ہیں اور وہ اس وقت تک نئی پالیسی کو قبول نہیں کر سکتا جب تک کہ پاکستان میں موجود شدت پسندوں کے کیمپ ختم نہیں کیے جاتے۔

کشمیر کے مسئلے کے حل سے سب سے زیادہ فائدہ فوج کو ہی ہو گا

فوجی تجزیہ کار عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ ’میں پوچھتی ہوں کہ آیا ان کیمپوں کے مکمل خاتمے کی نیت ہے اور اگر نہیں ہے تو پھر انڈیا سے بات کیسے ہو گی‘۔

ایک مغربی سفارت کار کا کہنا ہے ’زیادہ خطرناک جہادی کشمیری نہیں پاکستانی ہیں اور ان پر ہاتھ ڈالنے کا مطلب پاکستان کے اسلام پسندوں پر ہاتھ ڈالنا ہے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ اسی لیے صدر مشرف کشمیر کی کشیدگی میں کمی اور فوجوں کی بیرکوں میں واپسی چاہتے ہیں لیکن شدت پسندوں کے انفرا سٹکرچر کو ختم کرنے کے لیے باہمی طور پر قابلِ قبول حل درکار ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’بحالیِ اعتماد کے اقدام کافی نہیں ہیں۔ آپ جہاد میں کمی کرا سکتے ہیں، کچھ علاقوں میں اسے رول بیک بھی کر سکتے ہیں لیکن درحقیقت کیمپوں کو ختم کرانا، رہنماؤں کو گرفتار کرنا اور اس کا سرِعام اعلان کرنے کا مطلب ہے ایک نیا باب شروع کرنا اور دراصل ایک نیا ہی باب شروع کرنا ہو گا‘۔

اسی بارے میں
سب کشمیری مشکوک؟
14 January, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد