’ویزہ لینے کے لیئے کشمیری ظاہر کیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ جمعرات کو سپین سے بےدخل ہو کر اسلام آباد پہنچنے والے تمام افراد پاکستانی ہیں۔ ایف آئی اے کے سینئیر عہدیدار طارق کھوسہ نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ افراد نے سپین میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی خاطر اپنے آپ کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کا باشندہ ظاہر کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ہسپانوی حکام کے پاکستانی سفارتحانے سے رابطے پر سفارتخانے کے حکام نے ان افراد کے انٹرویو کیئے جس کے بعد انہیں سفری دستاویزات جاری کی گئی تھیں۔ طارق کھوسہ نے بتایا کہ ان تمام افراد نے یہ قبول کر لیا ہے کہ وہ پاکستانی ہیں اور انہیں مزید تفتیش کے لیئے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دورانِ تفتیش ان لوگوں نے ان ایجنٹوں کے ناموں کا بھی انکشاف کیا جو انہیں سپین پہنچانے کے دھندے میں ملوث ہیں اور اب ان ایجنٹوں کی گرفتاری کے لیئے اقدامات کیئے جا رہے ہیں۔ جمعرات کو اسلام آباد ائرپورٹ پر اس وقت ڈرامائی صورتحال پیدا ہو گئی تھی جب سپین میں غیر قانونی قیام کے جرم میں گرفتار ہونے کے بعد ایک خصوصی پرواز کے ذریعے پاکستان بھیجے جانے والے بیالیس افراد میں سے اکتالیس نے یہ دعوٰی کیا تھا کہ وہ پاکستانی شہری نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ اکتوبر کے اوائل میں ہی امریکہ سے چھتہر پاکستانیوں کو بھی مختلف الزامات کے تحت ملک بدر کر کے واپس بھیجا گیا تھا۔ پاکستان سے ہر برس ہزاروں نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں مشرقِ وسطٰٰی، امریکہ اور یورپی ممالک جانے کی کوشش میں ایجنٹوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو انہیں بیرونِ ملک لے جانے کے عوض ان سے بھاری رقم بٹورتے ہیں اور پھر ان نوجوانوں کو غیر ممالک میں بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق اب تک مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکہ سے پچاس ہزار کے قریب پاکستانیوں کو بے دخل کر کے واپس وطن بھیجا جا چکا ہے۔ | اسی بارے میں غیرقانونی تارکین وطن کی ملک بدری21 April, 2006 | آس پاس ’ہم کوئی مجرم نہیں ہیں‘02 May, 2006 | آس پاس پاکستانی، بھارتیوں کا ہسپانیہ پر ہلہ 27 April, 2005 | آس پاس ساڑھے چار لاکھ نئے یورپی تارکین وطن22 August, 2006 | آس پاس نقل مکانی: خواتین کی تعداد نصف ہے06 September, 2006 | آس پاس تارکین وطن تک رسائی کا مطالبہ05 October, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||