’ہم پاکستانی نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپین سے مختلف الزامات کے تحت بے دخل کیے جانے والے بیالیس پاکستانیوں میں سے اکتالیس نے اسلام آباد پہنچنے کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ وہ پاکستانی نہیں ہیں بلکہ ان کا تعلق بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے ہے۔ ان کے اس ڈرامائی دعوے کے بعد پاکستانی حکام پریشان ہیں کیونکہ سپین کے دارلحکومت میڈرڈ سے جب خصوصی طیارے میں انہیں اسلام آباد لایا جارہا تھا تو اس وقت چھان بین کے بعد پاکستانی سفارتخانے نے انہیں سفری دستاویزات بھی جاری کی تھیں۔ اس بارے میں جب وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ سے پوچھا گیا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی اور کہا کہ ’فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی‘ یعنی ’ایف آئی اے‘ اس بارے میں تفتیش کر رہی ہے کہ حقائق کیا ہیں۔ تاہم انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وزارت داخلہ نے وزارت خارجہ کی معرفت اسلام آباد میں تعینات سپین کے سفیر سے اس معاملے میں بات کی ہے کہ اگر چھان بین کے بعد پاکستانی قرار دے کر اسلام آباد پہنچائے جانے والے یہ پاکستانی ثابت نہ ہوئے تو سپین کی حکومت انہیں واپس میڈرڈ لے جانے کے لیے ذمہ دار ہوگی۔ آفتاب شیر پاؤ نے بتایا کہ سفری دستاویزات نامکمل ہونے اور دیگر الزامات کے تحت بے دخل ہوکر اسلام آباد پہنچنے والے بیالیس افراد میں سے صرف ایک شخص نے کہا ہے کہ وہ پاکستانی ہے۔
وزیر کے مطابق امیگریشن حکام نے باقی دیگر افراد کو تحویل میں لے لیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے کہ آخر حقائق کیا ہیں۔ یہ اپنی نوعیت کا خاصا دلچسپ کیس ہے کہ اگر وہ پاکستانی نہیں ہیں تو آخر میڈرڈ میں تعینات پاکستانی سفارتی عملے نے انہیں سفری دستاویزات کیسے جاری کیں؟ واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکہ سے بے دخل ہوکر سے پچاس ہزار کے قریب پاکستانی واپس وطن پہنچ چکے ہیں لیکن تاحال ایسا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ | اسی بارے میں غیرقانونی تارکین وطن کی ملک بدری21 April, 2006 | آس پاس ’ہم کوئی مجرم نہیں ہیں‘02 May, 2006 | آس پاس پاکستانی، بھارتیوں کا ہسپانیہ پر ہلہ 27 April, 2005 | آس پاس ساڑھے چار لاکھ نئے یورپی تارکین وطن22 August, 2006 | آس پاس نقل مکانی: خواتین کی تعداد نصف ہے06 September, 2006 | آس پاس تارکین وطن تک رسائی کا مطالبہ05 October, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||