ساڑھے چار لاکھ نئے یورپی تارکین وطن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سن دو ہزار چار میں برطانیہ کے یورپین یونین میں شمولیت کے بعد سے حکومتی اعدادو شمار کے مطابق آٹھ یورپی ممالک سے تقریباً چار لاکھ سینتالیس ہزار لوگ برطانیہ ہجرت کر کے آ چکے ہیں۔ ان اعدادوشمار کے مطابق اس سال مارچ اور جون کے درمیان پولینڈ سمیت سات دوسرے مشرقی اور وسطی یورپی ملکوں سے باون ہزار ایک سو پچانوے لوگ ہجرت کر کے انگلینڈ آئے ہیں۔ حکو مت کی پیش گوئی کے مطابق آئندہ ایک سال میں پندرہ ہزار تارکین وطن کی آمد متوقع ہے۔ ان اعدادو شمار کے سامنے آنے سے یہ بحث جاری ہے کہ کیا بلغاریہ اور رومانیہ کی یورپی یونین میں شمولیت کے بعد ان تارکین کی تعداد کی حد مقرر کرنی چاہئے۔ ورکر رجسٹریشن سکیم کے تحت چار لاکھ ستائیس ہزار پچانوے لوگوں کو انگلینڈ آنے کی منظوری دی گئی تھی جن میں سے دو لاکھ چونسٹھ ہزار پانچ سو ساٹھ لوگوں کا تعلق پولینڈ سے ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ مہاجرین ایڈمنسٹریشن، بزنس، مینیجمنٹ اور ہسپتالوں میں سٹاف کی کمی کو پورا کریں گے۔ جبکہ اتوار کو کنزرویٹو پارٹی نےانتارکین وطن کی تعداد پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے خاص طور پر 2007 میں بلغاریہ اور رومانیہ کی شمولیت کے بعد یہ پابندی ضروری ہے۔ وزیر تجارت ڈارلنگ نے اس کے جواب میں یہ کہا کہ ان تارکین وطن کومناسب طریقے سے سنبھال لیا جائے گا۔ اور جب بلغاریہ اور رومانیہ یورپی یونین میں شامل ہوں گے تو انگلینڈ کے دروازے کھلے نہیں رہیں گے۔ڈارلنگ کے ان بیانات کے بعد ہو سکتا ہے کہ اس دفعہ نئی پالیسی بنائی جائے۔ سابق منسٹر فرینک فیلڈ نے بھی اس بارے میں اپنی فکر کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان تارکین وطن کے آنے سے مقامی لوگوں کو نوکری ملنی مشکل ہو گئی ہے۔ فیلڈ نے یہ بھی کہا ہے کہ بلغاریہ اور رومانیہ ہی نہیں بلکہ دس دوسرے یورپی ممالک کے لوگوں کی تعداد بھی مقرر کرنی پڑے گی۔ | اسی بارے میں فلیچر بھی تنازعے کی لپیٹ میں22 August, 2006 | کھیل طیارہ سازش: گیارہ پر فرد جرم عائد21 August, 2006 | آس پاس برطانیہ: خارجہ پالیسی اور شدت پسندی21 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||