BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 April, 2006, 23:56 GMT 04:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غیرقانونی تارکین وطن کی ملک بدری

غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر نہ کریں: مظاہرین
کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں غیرقانونی تارکین وطن خصوصا کنسٹرکشن ورکرز کے حق میں یونیورسل ورکرز یونین کے تعاون سے ایک زبردست مظاہرہ ہوا۔

ٹورانٹو ڈاؤن ٹاؤن میں واقع صوبائی اسمبلی کوئنز پارک کے سامنے منعقد ہونے والی اس پرامن ریلی میں صوبہ انٹاریو کے مختلف شہروں ٹورانٹو، مسی ساگا، وان، ہملٹن، برامپٹن، لندن، سکاربورو سے بڑی تعداد میں لوگ مظاہرے میں شریک ہوئے۔

مظاہرین نے حالیہ دنوں میں کینیڈا سے ملک بدر کیے جانے والے غیرقانونی تارکین وطن کے حق میں زبردست نعرے لگائے اور حکومت کی ان کارروائیوں کی زبردست مذمت کی۔ ریلی کا آغاز کینیڈا کا قومی ترانہ بجاکر کیا گیا۔

مظاہرین اور مقررین نےغیرقانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ کوئنز پارک کے سامنے ہونے والی اس ریلی میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ شرکاء نے رنگ برنگے جھنڈے اور بینر اٹھا رکھے تھے۔

ان بڑے بڑے پوسٹروں پر مختلف پیغامات درج تھے۔ مثلا ایک پوسٹر پر لکھا تھا: ’ہمیں کینیڈا میں بہتر مستقبل کیلئے کام کرنے دو۔‘ ایک سکولی طالبہ نے پوسٹر اٹھا رکھا تھا جس پر یہ نعرہ درج تھا: ’ملک بدر کی جانے والی پرتگالی فیملی کو واپس لاؤ۔‘

ایک پوسٹر پر لکھا تھا: ’ملک بدر کئے جانے والوں کا تعلق یہاں سے ہے ناکہ وہاں سے۔‘ ایک اور پوسٹر کے مطابق ’ایماندار اور محنتی لوگو ں کو کینیڈا میں رہنے دو۔‘

 ’مجھے پورے مجمع میں کوئی دہشت گرد نظر نہیں آرہا تو پھر حکومت کیوں معصوم لوگوں کو ملک بدر کررہی ہے۔‘
پاکستانی نژاد رکن پارلیمنٹ واجد علی خان
جلسے میں متعدد سیاست دان، طالب علم، سماجی، مذہبی رہنما بھی شامل ہوئے جن میں سٹی آف مسی ساگا کی میئر ہیزیل میککیلیون، سٹی آف وان کے میئر مائیکل ڈی بیا، پاکستانی نژاد رکن پارلیمنٹ واجد علی خان، صوبہ انٹاریو کے وزیر امیگریشن مائیکل کول، انٹرنیشنل ورکرز یونین کے رہنما ٹونی ڈیوینسیو قابل ذکر ہیں۔

تمام مقررین نے انگریزی اور اپنی مادری زبانوں میں مظاہرین سے خطاب کیا۔ مقررین نے مظاہرین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ’اس ملک کے لیے آپ کی خدمات قابل تعریف ہیں۔ یہاں آکر آپ نے ملک کے تمام لوگوں کے ساتھ ملکر آج آواز اٹھائی ہے اور یہ مطالبہ کیا ہے کہ کینیڈا کی حکومت امیگریشن قوانین میں تبدیلی کرے اور انہیں زیادہ منصفانہ بنائے۔‘

رکن پارلیمنٹ واجد علی خان نے کہا: ’مجھے پورے مجمع میں کوئی دہشت گرد نظر نہیں آرہا تو پھر حکومت کیوں معصوم لوگوں کو ملک بدر کررہی ہے۔‘

سٹی آف مسی ساگا کی میئر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس ملک میں تیس سال سے امیگریشن سیسٹم میں موجود نقائص کو بہتر بنانے کی شدید ضرورت ہے۔ اگر یہ سیسٹم ٹھیک ہوتا تو آج ہم کو یہاں جمع ہونے کی ضرورت نہ پڑتی۔

صوبہ انٹاریو کے وزیر امیگریشن مائیکل کول نے اپنی تقریر میں کہا کہ ماضی کے وفاقی وزراء امیگریشن سے متعلق اپنے وعدوں پر پورے نہ اترے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پڑھے لکھے لوگوں کے ساتھ کیا حال ہورہا ہے۔ مقررین نے کہا کہ ’اگر مزدوری کرنا جرم ہے تو ہم سب مجرم ہیں۔‘

یاد رہے کہ کینیڈا کے ترقی یافتہ صوبے انٹاریو میں ہر سال ڈیڑھ لاکھ کے قریب امیگرنٹس آرہے ہیں۔ ان میں کنسٹرکشن ورکرز اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں میں کینیڈا سے سینکڑوں افراد کو جو کہ غیرقانونی طور پر مقیم تھے ملک بدر کردیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
کینیڈا:اپوزیشن کی جیت
24 January, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد