پاکستانی تارکین وطن گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپین کے حکام نے پاکستان اور سری لنکا سے آنے والے دو سو تارکین وطن کو کیناری جزیرے پر اتار لیا ہے۔ تارکین وطن کی بڑی تعداد کا تعلق پاکستان سے بتایا جاتا ہے جبکہ کچھ کا تعلق سری لنکا اور انڈیا ہے۔ حکام کے مطابق ایشائی تارکین وطن ایک بڑی کشتی میں سینگال سے یورپ کے کسی مقام کی طرف لے جایا جا رہا تھا جب ان کو سپین بجریہ کے محافظوں نے دیکھ لیا۔ سپین کے حکام نے دو سو میں سے صرف اٹھارہ تارکین وطن کو کشتی سے اترنے کی اجازت دی ہے اور ان میں کچھ کو علاج کے لیئے ہسپتال بھی لے جایا گیا ہے۔ سپین کے حکام کا کہنا ہے کہ سمندری کشتی پر کوئی جھنڈا نہیں لہرا رہا تھا اور جب وہ کشتی پر پہنچے تو عملے کے لوگ بھی مسافروں میں چھپ گئے۔ سپین کے ایک اہلکار کے مطابق تارکین وطن کو سمندری کشتی میں ایسے حالات میں رکھا گیا تھا جو ناقابل بیان ہے۔
حکام کو تارکین وطن کی منزل کا صحیح علم نہیں ہے لیکن خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ یونان جا رہے تھے۔ سپین کے ایک اخبار ال پیاس کے مطابق پاکستانی تارکین سنیگال پہنچے جہاں سے انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہ ان کو پانچ سو امریکی ڈالر کے عوض یونان لے کر جا رہے تھا جب وہ سپین کی بحری محافظوں کے ہتھے چڑھ گئے۔ ایشیائی تارکین کو ایک ایسے وقت میں گرفتار کیا گیا ہے جب سپین کے حکام ہزاروں افریقیوں کو جن کو اسی طرح کے حالات میں گرفتار کیا تھا، واپس ان کے ملک بھیجوانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ سپین کی حکومت نے کابینہ کی ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے جو ایشائی تارکین وطن کے معاملے کو نپٹائی گے۔ سپن کی نائب وزیر اعظم ماریہ ٹریسا فرنیڈز نے کہا کہ تارکین کو جلد ان کےملک بھیجنے کے لیے انتظامات کیے جائیں گے۔ | اسی بارے میں غیرقانونی تارکین وطن کی ملک بدری21 April, 2006 | آس پاس ’ہم کوئی مجرم نہیں ہیں‘02 May, 2006 | آس پاس پاکستانی، بھارتیوں کا ہسپانیہ پر ہلہ 27 April, 2005 | آس پاس ساڑھے چار لاکھ نئے یورپی تارکین وطن22 August, 2006 | آس پاس نقل مکانی: خواتین کی تعداد نصف ہے06 September, 2006 | آس پاس تارکین وطن تک رسائی کا مطالبہ05 October, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||