BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 September, 2006, 00:24 GMT 05:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی تارکین وطن گرفتار
ایشیائی تارکین وطن
تارکین وطن میں اکثریت کا تعلق پاکستان سے ہے۔
سپین کے حکام نے پاکستان اور سری لنکا سے آنے والے دو سو تارکین وطن کو کیناری جزیرے پر اتار لیا ہے۔

تارکین وطن کی بڑی تعداد کا تعلق پاکستان سے بتایا جاتا ہے جبکہ کچھ کا تعلق سری لنکا اور انڈیا ہے۔

حکام کے مطابق ایشائی تارکین وطن ایک بڑی کشتی میں سینگال سے یورپ کے کسی مقام کی طرف لے جایا جا رہا تھا جب ان کو سپین بجریہ کے محافظوں نے دیکھ لیا۔

سپین کے حکام نے دو سو میں سے صرف اٹھارہ تارکین وطن کو کشتی سے اترنے کی اجازت دی ہے اور ان میں کچھ کو علاج کے لیئے ہسپتال بھی لے جایا گیا ہے۔

سپین کے حکام کا کہنا ہے کہ سمندری کشتی پر کوئی جھنڈا نہیں لہرا رہا تھا اور جب وہ کشتی پر پہنچے تو عملے کے لوگ بھی مسافروں میں چھپ گئے۔

سپین کے ایک اہلکار کے مطابق تارکین وطن کو سمندری کشتی میں ایسے حالات میں رکھا گیا تھا جو ناقابل بیان ہے۔

حکام کو تارکین وطن کی منزل کا صحیح علم نہیں ہے لیکن خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ یونان جا رہے تھے۔

سپین کے ایک اخبار ال پیاس کے مطابق پاکستانی تارکین سنیگال پہنچے جہاں سے انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہ ان کو پانچ سو امریکی ڈالر کے عوض یونان لے کر جا رہے تھا جب وہ سپین کی بحری محافظوں کے ہتھے چڑھ گئے۔

ایشیائی تارکین کو ایک ایسے وقت میں گرفتار کیا گیا ہے جب سپین کے حکام ہزاروں افریقیوں کو جن کو اسی طرح کے حالات میں گرفتار کیا تھا، واپس ان کے ملک بھیجوانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

سپین کی حکومت نے کابینہ کی ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے جو ایشائی تارکین وطن کے معاملے کو نپٹائی گے۔ سپن کی نائب وزیر اعظم ماریہ ٹریسا فرنیڈز نے کہا کہ تارکین کو جلد ان کےملک بھیجنے کے لیے انتظامات کیے جائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد