کشمیر میں بھی وکلاء سڑکوں پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں کشمیری وکلاء نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار چودھری کی معطلی کے خلاف عدالتوں کا بائیکاٹ اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس احتجاجی مظاہرے میں شریک وکلاء نے نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف اور معطل چیف جسٹس کے حق میں نعرے درج تھے۔ ایک بینر پر لکھا تھا ’جنرل مشرف کا عدلیہ پر کمانڈو ایکشن نامنظور‘ جبکہ دوسرے پر درج تھا ’باوردی حکمرانوں انصاف کا قتل بند کرو‘۔ مظاہرین ’گو مشرف گو‘ اور ’لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی‘ کے نعرے بھی لگارہے تھے۔ مظاہرین نے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کا پتلا اٹھا رکھا تھا جس کو خاکی وردی پہنائی گئی تھی۔ ایک مرحلے پر مظاہرین نے اس پتلے کو جوتوں سے پیٹا اور بعد ازاں وردی اتار کر اس کو نذر آتش کردیا گیا۔ اس موقع پر مظفرآباد سنڑل بار ایسوسی ایشن کے صدر خواجہ مقبول وار نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو معطل کرنا غیر آئینی، غیر جمہوری اور غیر قانونی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان چیف جسٹس کو تعینات تو کرسکتے ہیں لیکن چیف جسٹس کو ہٹانے، معطل کرنے یا غیر فعال کرنے کا اختیار صدر کے پاس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج نے وردی کے جوش میں بندوق کی نوک پر پاکستان کی عدلیہ پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو فوری طور پر اپنے عہدے پر بحال کیا جائے اور فوج غیر آئینی اقدام سے پرہیز کرے۔ جنوبی ضلع راولاکوٹ اور بعض دوسرے علاقوں میں بھی وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور مظاہرے کیے۔ |
اسی بارے میں ’یہ شک و شبہے کا وقت ہے‘12 March, 2007 | پاکستان جسٹس کے حق میں ملک گیر احتجاج12 March, 2007 | پاکستان ’ٹرائل مشرف کا ہونا چاہیے‘12 March, 2007 | پاکستان کوئٹہ میں احتجاج، یوم سیاہ13 March, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار کا ’استعفے سے انکار‘13 March, 2007 | پاکستان صدر و چیف جسٹس کیخلاف سماعتیں13 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||