BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 February, 2007, 09:01 GMT 14:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کشمیر جہاد فنڈ پر پابندی نامنظور‘

یومِ یکجہتی کشمیر
’صدر مشرف کی تجاویز پاکستانی عوم اور کشمیریوں دونوں کو قبول نہیں‘
جماعتِ اسلامی کے امیر اور متحدہ مجلس عمل کے رہنما قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے کشمیر جہاد فنڈ اکٹھا کرنے پر عائد پابندی کو مسترد کرتے ہیں۔

یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے قاضی حسین احمد نے کہا کہ وہ حکومت کی اس پابندی کو نہیں ماتے اور اسی ریلی کے دوران چندہ اکٹھا کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ اس اعلان کے بعد انہوں نے جہادِ کشمیر کے لیے ریلی کے شرکاء سے چندہ اکٹھا بھی کیا۔

قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ کشمیر کے حوالے سے جنرل مشرف کے چار نکات کو نہ ہی کشمیری تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی یہ تجاویز پاکستانی عوام کے لیے قابلِ قبول ہیں۔

حزب مخالف کی مذہبی جماعتیں حکومت پر کشمیر کو بیچنے کا الزام عائد کرتی رہی ہیں اور پانچ فروری کی مناسبت سے نکالی جانے والی ریلی کا عنوان بھی ’پاکستان کی شہ رگ کشمیر کو کٹنے سے بچاؤ‘ رکھا گیا تھا۔

ریلی کے موقع پر پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی اور پارلیمان کے سامنے سڑک پر پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کی ہوئی تھیں۔ سہ پہر کو راولپنڈی اور گرد نواح کے علاقوں سے چھوٹے چھوٹے جلوس اسلام آباد پہنچنا شروع ہوئے تو پولیس نے کسی کو نہیں روکا۔ اسلام آباد میں رکشہ چلانے پر پابندی ہے لیکن راولپنڈی سے کئی رکشے بھی اسلام آباد پہنچنے والے جلوس میں شامل تھے۔

ریلی کے شرکاء جہاد فنڈ میں چندہ دیتے ہوئے

تاہم بعد ازاں پولیس اہلکار پریڈ گراؤنڈ کے سامنے سڑک بند کر کے کھڑے ہوگئے جبکہ منتظمین جلوس کے شرکاء کو مقررہ حد سے آگے بڑھنے سے روکتے رہے۔ جلوس میں جماعت الدعوۃ کے کارکن بھی شامل رہے۔

پاکستان میں پانچ فروری کو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا دن منایا جاتا ہے۔ اسی حوالے سے پیر کو ملک بھر میں عام تعطیل ہے اور حکومت کے مطابق کشمیر میں اسی ہزار افراد کے مارے جانے کی یاد میں صبح دس بجے پانچ منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔

اسلام آباد میں ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ اور ’مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی خواہش کے مطابق‘ جیسے نعروں پر مبنی بڑے بڑے بینر بھی سرکاری خرچ پر لگائے گئے ہیں۔ پانچ فروری کو شائع ہونے والے بیشتر اخبارات نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے خصوصی ضمیمے بھی شائع کیے ہیں جس کا مواد اور اشتہارات حکومت نے جاری کیے ہیں۔

احتجاجی ریلی میں شریک ایک بچی

یومِ یکجہتی کشمیر کے حوالے سے مظفرآباد سے بی بی سی کے نمائندے ذوالفقار علی نے بتایا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حزبِ اختلاف جماعت نے قانون ساز اسمبلی میں پاکستان کے وزیرِاعظم کے خطاب کا بائیکاٹ کیا اور ان کی تقریر کے دوران اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔

لاہور سے شاہد ملک کے مطابق وہاں حکمران مسلم لیگ اور مسلم لیگ (نواز) نے علیحدہ علیحدہ تقریبات منعقد کیں لیکن قابلِ ذکر جلوس کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے سابق سربراہ حافظ سعید کی سربراہی میں نکالا گیا۔

پانچ فروری کو کشمیریوں کے ساتھ یوم یکجہتی منانے کی کوئی خاص مناسبت تو نہیں ہے لیکن انیس سو نوے کے بعد سے ہر سال اس تاریخ کو سرکاری سطح پر منایا جاتا ہے اور پاکستانی حکومت کشمیریوں کو اپنی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔

انیس سو نوے میں مرحوم نوابزادہ نصراللہ جب پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے سربراہ تھے، اس وقت سے ہر سال پانچ فروری کو یوم کشمیر منایا جاتا ہے۔
اس دن عام تعطیل کا اعلان پیپلز پارٹی نے کیا تھا جبکہ اسے بھرپور طور پر منانے کی روایت میاں نواز شریف کے دور میں پڑی۔

ہیومن رائٹس واچ
کشمیر انتخابات، الحاق مخالفوں کی عدم شرکت
’کشمیر یو ٹرن‘
’فوج کو جنرل مشرف نے اعتماد میں نہیں لیا‘
ہیومن رائٹس رپورٹ
’آزاد‘ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد