نئے دارالحکومت کیلیے رقم نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزے سے متعلق بحالی اور تعمیر نو کے ادارے کے نائب سربراہ نے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت کو کسی دوسری جگہ تعمیر کرنے کے لیے رقم فراہم نہیں کی جائے گی ۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان ایک سے زیادہ بار کہہ چکے ہیں وہ ضلع مظفرآباد میں کسی نئی جگہ دارالحکومت تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے بیانات کے نتیجے میں اس مسئلے پر تنازعہ کھڑا ہوا اور مظفرآباد شہر میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے تھے۔ بحالی اور تعمیر نو کے ادارے ’ایرا‘ کے نائب سربراہ جنرل ندیم احمد نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ ان کا ادارہ نئی جگہ دارالحکومت تعمیر کرنے کے لیے رقم نہیں دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت دارالحکومت کسی دوسری جگہ قائم کرنا چاہتی ہے اور اس کے لیے حکومت پاکستان اپنے بجٹ سے رقم فراہم کرتی ہے تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ البتہ ان کا کہنا ہے کہ’ہمیں جو اختیار سونپا گیا ہے وہ بڑا واضع ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمارے پاس جو پیسہ آرہا ہے وہ زلزے سے متاثرہ علاقوں میں تباہ شدہ اور گری ہوئی عمارتوں کی تعمیر نو کے لیے ہے۔ اس کے علاوہ یہ رقم ہم خطرے والے علاقے یا ریڈ زون میں واقع عمارتوں کو محفوظ جگہ پر منتقل کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔‘ جنرل ندیم احمد نے مزید کہا کہ ’ نہ ہی ہم ایسے کام کی تائید کرتے ہیں اور نہ ہی ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔‘
جنرل ندیم نے کہا کہ’ بالاکوٹ کی آبادی کو دوسری جگہ منتقل کر نے کا اختیار ہمیں سونپا گیا ہے کیونکہ بالاکوٹ کے نیچے سے فالٹ لائن گزر رہی ہے اور رہا سوال دارالخلافہ کی منتقلی کا تو یہ میرے دائرے اختیار میں نہیں ہے اور نہ ہی ہم اس کو دوسری جگہ قائم کرنے کے لیے رقم فراہم کریں گے۔‘ آٹھ اکتوبر سن دو ہزار پانچ کے زلزے میں شہر مظفرآباد تباہ ہوا لیکن صدر، وزیراعظم، وزراء اور سیکریٹریز کے دفاتر کے علاوہ قانون ساز اسمبلی، اسمبلی ہاسٹل، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی عمارتیں محفوظ رہیں۔ اس کے علاوہ صدر، وزیراعظم اور وزراء کی رہائش گاہیں بہت حد تک محفوظ رہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ عمارتیں محفوظ ترین علاقے میں ہیں ۔ مظفرآباد کے ترقیاتی ادارے کے چیئرمین زاہد امین کاشف کا بھی کہنا ہے کہ جاپانی ماہرین کے منصوبے میں وزیراعظم، وزراء اور سیکرٹریز کے دفاتر کے علاوہ قانون ساز اسمبلی اور سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی عمارتوں کو موجودہ جگہ پر ہی قائم رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ البتہ ان کا کہنا ہے کہ’ان عمارتوں کو شدید زلزلوں کے جھٹکوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تعمیراتی تجزیے کے بعد یا تو مزید مضبوط کرنا پڑے گا اور اگر ان عمارتوں کو گرانا مقصود ہوا تو یہ عمارتیں دوبارہ اسی جگہ تعمیر کی جاسکتی ہیں کیون کہ جس علاقے میں یہ عمارتیں ہیں وہ موزون اور محفوظ ترین علاقہ ہونے کے ساتھ ساتھ خوبصورت اور کشادہ ہے۔‘ زاہد امین کاشف کا کہنا ہے کہ ’بجائے حکومت اربوں روپے خرچ کر کے دارالحکومت کے لیے نئی زمین خریدے وہ رقم لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جاسکتی ہے۔‘ اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ان دفاتر کو منتقل کرنے پڑے گا جوشہر میں ہیں اور استعمال اراضی منصوبے کی زد میں آرہے ہیں یا خطرے والے علاقوں میں ہیں اور یہ کہ ایسے دفاتر کی فہرست حکومت کو بھیج دی گئی ہے۔‘ عام لوگوں سے لے کر کشمیر کے اس علاقے کی حزب مخالف اور قوم پرست جماعتوں کے علاوہ خود حکمران جماعت مسلم کانفرنس کے اہم عہدیدار دارالحکومت کی نئی جگہ پر تعمیر کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے مسلم کانفرنس کے سینئر نائب صدر راجہ فاروق حیدر خان سمیت متعدد حزب مخالف اور قوم پرست جماعتوں کے علاوہ طلبہ اور تاجر تنظیموں کے عہدیداروں پر مشتمل کل جماعتی کانفرنس کے نام پر ایک اتحاد قائم کیا گیا ہے۔ اس اتحاد نے مظفرآباد سے چکوٹھی تک احتجاج شروع کیا ہے ۔ |
اسی بارے میں دارالحکومت مظفر آباد میں نہیں ۔۔۔01 March, 2007 | پاکستان سردار عتیق امریکہ، یورپ کے دورے پر10 September, 2006 | پاکستان مظفرآباد، 63 فیصد علاقہ خطرناک22 March, 2006 | پاکستان مظفرآباد تعمیر کے لیے محفوظ: مشیر18 March, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||