دارالحکومت مظفر آباد میں نہیں ۔۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان کی طرف سے دارالحکومت کسی نئی جگہ تعمیر کرنے کے اعلان کے بعد ایک نیا تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے اور احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔ پاکستان کی حکومت سے بھی یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ وزیر اعظم کو کسی ایسے اقدام سے باز رکھیں لیکن حکومت پاکستان کی طرف سے اس معاملے پر ابھی تک کوئی بیان نہیں آیا۔ کشمیر کے اس علاقے کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان چند دنوں سے مسلسل یہ بیان دے رہے ہیں کہ دارالحکومت کو تحصیل مظفرآباد میں ہی نئی جگہ تعمیر کیا جائے گا۔ سردار عتیق احمد خان کی حکومت گذشتہ سال جولائی میں قائم ہوئی تھی اور اقتدار سنبھالنے کوئی چھ ماہ بعد انہوں نے دارالحکومت منتقل کرنے کی تجویز دے کر سب کو حیران کر دیا ہے۔ لیکن انہوں نے اب تک وہ ٹھوس وجوہ بیان نہیں کیں جو لوگوں کو قائل کرنے کے لیے کافی ہوں اور یہ بھی کہ اس کے لیے رقم کہاں سے آئے گی۔
شاید یہ ایک اہم وجہ ہے کہ ان کی تجویز کو عمومی طور پر شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے اور ان کےاس اعلان کے بعد شہر مظفرآباد اور دیگر قصبوں کے لوگوں میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے اور احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔ عام لوگوں سے لے کر کشمیر کے اس علاقے کی حزب مخالف اور قوم پرست جماعتوں کے علاوہ خود حکمران جماعت مسلم کانفرنس کے اہم عہدیدار دارالحکومت کی نئی جگہ پر تعمیر کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔ کشمیر کے اس علاقے کی قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سردار قمرالزماں نے دارالحکومت کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ دارالحکومت اپنی موجودہ جگہ پر ہی رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی طرف سے اسمبلی کو اعتماد میں لیے بغیر اپنے طور پر یہ اعلان کرنا ان کی بدنیتی ظاہر کرتا ہے۔
دارالحکومت کو نئی جگہ تعمیر کرنے کے خلاف شہر مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے مسلم کانفرنس کے سینئر نائب صدر راجہ فاروق حیدر خان سمیت متعدد حزب مخالف اور قوم پرست جماعتوں کے علاوہ طلبہ اور تاجر تنظیموں کے عہدیداروں پر مشتمل کل جماعتی کانفرنس کے نام پر ایک اتحاد قائم کیا گیا ہے۔ حکمران جماعت مسلم کانفرنس کے رہنما راجہ فاروق حیدر بڑھ چڑھ کر کشمیر کے اس علاقے کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد کی تجویز کی مخالفت کر رہے ہیں اور وہ اس تجویز پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔ راجہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے پاس دارالحکومت منتقل کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاپانی اور پاکستانی ماہرین نے شہر مظفرآباد کو تعمیر نو اور مرمت کے لیے موزوں قرار دیا ہے لیکن وزیراعظم نے ان کی رپورٹس کا مشاہدہ کیے بغیر دارالحکومت کو منتقل کرنے کا اعلان کرکے مظفرآباد میں افراتفری کی سی صورت حال پیدا کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ایک ایسے مرحلے پر جب یہ باتیں ہورہی ہیں کہ تنازعہ کشمیر حل کیا جارہا ہے مظفرآباد میں افراتفری پیدا کرنا حماقت ہے‘۔ انہوں نے اپنے وزیر اعظم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں وہ حکمران حکمرانی کے قابل نہیں ہے جو طے شدہ مسائل چھیڑے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’شہر مظفرآباد میں لوگوں کی معشیت کا انحصار مظفرآباد کے دارالحکومت برقرار رہنے میں ہیں‘۔ اس کے علاوہ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ کشمیر کے اس علاقے کی اکائی اور یکجہتی کی علامت ہے اور ساری ریاست کا مفاد اسی میں ہے کہ دارالحکومت اپنی جگہ پر
انہوں نے کہا ہے کہ ’بحثیت حکمران جماعت کے عہدیدار کے یہ میرا فرض ہے کہ میں وزیر اعظم کو اندھے کنویں میں چھلانگ لگانے سے باز رکھوں‘۔ ساتھ ہی انہوں نے ’حکومت پاکستان سے کہا کہ وہ سردار عتیق احمد خان کو ایسے قدم اٹھانے سے باز رکھیں‘۔ مقامی تاجر بھی اس احتجاجی مہم میں پیش پیش ہیں۔ انجمن تاجران مظفرآباد کے عہدیدار پرویز بانڈے کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کی منتقلی کی صورت میں ان کا کاروبار تباہ ہوجائے گا۔ ان کا کہنا ہےکہ ’ہم لوگ پہلے ہی زلزے کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں اور اوپر سے حکومت ہماری مشکلات کم کرنے کے بجائے اضافہ کر رہی ہے اور وہ ہمارا روز گار بھی ہم سے چھیننا چاہتی ہیں‘۔ بانڈے نے کہا کہ ’ہم کسی بھی صورت میں دارالحکومت منتقل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے‘۔ آٹھ اکتوبر سن دو ہزار پانچ کے زلزے میں شہر مظفرآباد تباہ ہوا لیکن صدر، وزیراعظم، وزراء اور سکریڑیز کے دفاتر کے علاوہ قانون ساز اسمبلی، اسمبلی ہاسٹل، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی عمارتیں محفوظ رہیں۔ یہ عمارتیں شہر مظفرآباد کے اس علاقے میں ہیں جہاں زلزے نے کوئی خاص نقصان نہیں پہنچایا۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم ، صدر اور وزرا کی رہائش گاہیں بھی بہت حد تک محفوظ رہیں۔
ترقیاتی ادارہ مظفرآباد کے چئرمین زاہد امین کاشف بھی کشمیر کے اس علاقے کے وزیراعظم کی طرف سے دارالحکومت کسی نئی جگہ تعمیر کرنے کی تجویز سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جاپانی منصوبے کے مطابق حکومتی دفاتر اور حکومتی اداروں کی عمارتیں، جن میں وزیراعظم، وزراء اور سیکریٹریوں کے دفاتر اور قانون ساز اسمبلی اور سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی عمارتیں شامل ہیں موجودہ جگہ پر ہی قائم رہیں گی۔ البتہ ان کا کہنا ہے کہ ان عمارتوں کو شدید زلزلوں کے جھٹکوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تعمیراتی تجزیے کے بعد یا تو مزید مضبوط کرنا پڑے گا اور اگر ان عمارتوں کو گرانا مقصود ہوا تو یہ عمارتیں دوبارہ اسی جگہ تعمیر کی جاسکتی ہیں کیوں کہ جس علاقے میں یہ عمارتیں ہیں وہ محفوظ ترین علاقے ہونے کے ساتھ ساتھ خوبصورت اور کشادہ قطعہ اراضی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زلزے سے متعلق ارضیاتی رپورٹس کے مطابق باقی تمام شہر احتیاطی تدابیر کے ساتھ قابل رہائش اور قابل تعمیر ہے اور لوگوں کو خوفزدہ یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں پندرہ ماہ بعد دو لاشیں برآمد04 February, 2007 | پاکستان زلزلے کی رقوم کی تفصیلات طلب18 January, 2007 | پاکستان زلزلہ: کرپشن، ایک شخص گرفتار 10 January, 2007 | پاکستان کشمیر: سردی سے چار بچے ہلاک05 December, 2006 | پاکستان ’مالکانِ مارگلہ ٹاورز کو حوالےکرو‘30 October, 2006 | پاکستان امدادی ادارے، جنسی ہراس کاالزام14 October, 2006 | پاکستان امدادی ادارے، جنسی استحصال کے الزام09 October, 2006 | پاکستان ’تعمیر نو فوج کا کام نہیں‘08 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||