رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | زلزلہ متاثرین کے لیے بیرونی ملکوں نے کافی امداد پہنچائی |
قومی احتساب بیورو صوبہ سرحد نے زلزلہ زدگان کے لئے بیرونی ممالک سے ملنے والے فنڈز میں ساڑھے گیارہ کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن کے الزامات میں غیرسرکاری تنظیم کے ایک اہلکار کوگرفتار کرلیا ہے۔ خصوصی احستاب عدالت پشاور کے ذرائع کا کہنا ہے کہ غیرسرکاری تنظیم ایمرکان کے اہلکار سلمان انور کو گزشتہ روز اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا۔ احستاب عدالت کی خاتون جج ارشاد قیصر نے بدھ کے روز ملزم کو پندرہ روز جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔ ملزم سلمان انور ولد محمد اکرم مذکورہ این جی او کے فنانس آفیسر ہے۔ نیب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نے آٹھ اکتوبر کے تباہ کن زلزلے کے بعد متاثرین کو بیرونی ممالک سے ملنے والی رقوم کی تقسیم میں ساڑھے گیارہ کروڑ روپے کی خردبرد کی ہے۔ مذکورہ این جی او کے دو دیگر اہلکار مرغوب علی اور عثمان پہلے ہی نیب کے زیرحراست ہیں اور ان کے خلاف عدالت میں کرپشن کے کیسز زیرسماعت ہیں۔ واضح رہے کہ آٹھ اکتوبر 2005 کو پاکستان کے شمالی علاقوں میں تباہ کن زلزلہ آیا تھا جس میں ایک لاکھ کے قریب لوگ جان بحق ہوئے تھے۔ اس زلزلے کے فوری بعد عالمی اداراوں نے متاثرین کی امداد کے لئے کروڑوں روپے کے فنڈز جاری کیے جس میں بعد میں خرد برد کے اطلاعات سامنے آئے۔ ادھر انسداد رشوت ستانی پشاور کی عدالت نے تعلیمی اداراوں کے لئے جاری صوبائی اسمبلی کے ترقیاتی فنڈز میں کرپشن کے الزام میں گرفتار پراجیکٹ لیڈر ضلع کوہستان حبیب الرحمان کو جرم ثابت ہونے پر نو ماہ قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ استغاثہ کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ اس نے 1994 میں صوبائی حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کے لئے جاری کی جانی والی ایک لاکھ تئیس ہزار روپے کے رکن اسمبلی کے فنڈز میں تئیس ہزار خرچ کیے اور ایک لاکھ روپے کی خردبرد کی۔ |