BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 October, 2006, 13:36 GMT 18:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مارگلہ ٹاورز: زلزلہ اور بعد کے گواہ

شاید یہاں ایک گھر تھا جہاں اس بچی کے لیے سب کچھ ہوتا تھا جس میں سے بہت کچھ زلزلے نے چھیں لیا اب وہ شمع جلا سکتی ہے یا پھول رک کر دل کا بوجھ کچھ کم کر سکتی ہے
پاکستان میں گزشتہ برس آنے والے زلزلے کو آج ایک برس پورا ہوگیا ہے لیکن اسلام آباد کے مارگلہ ٹاورز کی ادھوری عمارت آج بھی اپنے مکینوں کی تباہ حالی کی گواہی کے طور پر موجود ہے۔


آٹھ اکتوبر سنہ دو ہزار پانچ کے زلزلے کی شدت اور تباہی کی پہلی نشانی منہدم شدہ مارگلہ ٹاورز کی تصاویر کی صورت میں ہی عالمی ذرائع ابلاغ کے ذریعے دنیا تک پہنچی تھی لیکن شاید بعد میں سامنے آنے والی تباہی کی تفصیلات اتنی ہولناک تھیں کہ لوگ اس ابتداء کو بھول سے گئے۔

مارگلہ ٹاورز کے بلاک کے گرنے سے چوہتر افراد ہلاک جبکہ نواسی زخمی ہوئے تھے اور اس زلزلے کی پہلی برسی کے موقع پر اس سانحے میں زخمی ہونے والے افراد اور ہلاک ہونے والوں کے لواحقین نے اپنے پیاروں کی یاد میں جہاں جمعرات کی رات تباہ شدہ عمارت کے پاس شمعیں روشن کیں وہیں آٹھ اکتوبر کی صبح یہ تمام افراد ٹھیک اس وقت اس عمارت کے سامنے جمع ہوئے جب ایک برس قبل زلزلے کے ایک ہی جھٹکے نے ان کی زندگی بدل ڈالی تھی۔

اس مختصر تقریب میں ہلاک شدگان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی اور بچوں نے اپنے والدین اور بہن بھائیوں کی یاد میں تباہ شدہ عمارت کے ملبے پر گلدستے رکھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ مملکت سینیٹر طارق عظیم کا کہنا تھا کہ ان افراد کا غم بہت بڑا ہے جنہوں نے گزشتہ برس کے زلزلے میں نہ صرف اپنے اہلِ خانہ کو کھویا بلکہ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں وہ اپنے گھر بار سے بھی محروم ہو گئے۔

زلزلہ متاثرین کی امداد اور بحالی کے عمل میں شریک عالمی امدادی اداروں کی جانب سے بھی زلزلے میں ہلاک ہونے والے افراد کی یاد منانے اور متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے کوارڈینیٹر برائے انسانی امداد ژاں ویندرموٹیل کا کہنا تھا کہ ’ہم یہاں اس لیے جمع ہوئے ہیں کہ نہ صرف اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے افراد کو یاد کریں بلکہ ہمارا اصل مقصد تاحال مدد کے منتظر افراد کو یقین دلانا ہے کہ ہم انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم مل کر ان افراد کی مدد کریں گے جو تیزی سے آنے والی سردی سے بچاؤ کے لیے امداد کے منتطر ہیں اور یہی نہیں بلکہ تعمیرِ نو اور بحالی کے امر میں بھی ہم اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے‘۔

تصویروں کی زبانی
بالا کوٹ میں زندگی، زلزلے کے ایک سال بعد
سڑکیں بحال نہ ہوئیں
زلزلے کے پیسے دفاعی اہمیت کی سڑکوں پر
عمر حفیظ کا کیوبا
ٹانگ ملبے میں رہ گئی لیکن کیوبا والے کام آئے
امداد میں گھپلا
زلزلہ متاثرین کیلیئے امداد میں کرپشن کے الزامات
اسی بارے میں
اکتوبر سے اکتوبر تک
07 October, 2006 | پاکستان
عمر حفیظ کا کیوبا
07 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد