امدادی ادارے، جنسی استحصال کے الزام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ملکی اور غیر ملکی امدادی تنظیموں میں کام کرنے والی بعض مقامی خواتین نے الزام لگایا ہے کہ منتظمین نے انہیں جنسی طور پر حراساں کرنے کی کوشش کی۔ ایسی تنظیموں میں ملکی اور غیرملکی دونوں طرح کے ادارے شامل ہیں۔ تہمینہ شگفتہ ان مقامی خواتین میں سے ایک ہیں جنہیں مبینہ طور پر جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔ زلزے کے ایک ماہ بعد شگفتہ ایک غیر ملکی امدادی تنظیم میں چھ ماہ کے کانٹریکٹ پر بطور ہائیجین پروموٹر بھرتی ہوئی تھیں۔ شگفتہ کہتی ہیں کہ ’میں نے ضرورت کے پیش نظر نوکری حاصل کی۔ لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ میرے لیئے یہی ملازمت دہشت ناک تجربہ ( نائٹ مئیر ) ثابت ہوگا‘۔ کشمیر کے قدامت پسند معاشرے میں بہت سارے ایسے بھی خاندان ہیں جن کو خواتین کا مردوں کے ساتھ کام کرنا پسند نہیں۔ لیکن زلزے کے بعد لوگوں کو اپنی زندگیاں نئے سرے سے تعمیر کرنے کے لیئے پیسوں کی ضرورت ہے اور ان میں سے کئی خاندانوں نے خواتین کو امدادی اداروں میں کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ خاندان اس لیئے بھی اپنی خواتین کو اجازت دینے پر مجبور ہوگئے کیوں کہ امدادی اداروں کی طرف سے ملازمتوں کے لیئے شائع کئے جانے والے اشتہارات میں یہ خاص طور پر درج ہوتا ہے کہ ملازمتوں کے لیئے خواتین کی طرف سے درخواست دینے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ لیکن تہمینہ شگفتہ اور ان کی ساتھی خواتین کا دوسری خواتین کے لیئے رول ماڈل بننے کا خواب ان کے مرد ساتھیوں نے چکنا چور کرکے رکھ دیا۔ شگفتہ کو کام کے دوران اپنے بعض پاکستانی اور غیرملکی مرد ساتھیوں کی طرف سے جنسی پیش رفت کو مسلسل روکنا پڑا۔ شگفتہ کہتی ہیں کہ ’مجھے پیسوں ، تحائف اور یہاں تک کہ اچھی پوزیشن کی پیشکش کی جاتی تھی اور کہا جاتا تھا کہ میں ان کے ساتھ شہر سے باہر سفر کروں اور ان کے ساتھ رات کو ٹھہروں۔ لیکن مجھ سمیت زیادہ تر لڑکیوں نے ایسی پیش کش کو رد کردیا‘۔ یہ پیشکش صرف ان ہی کو نہیں کی جاتی بلکہ اس ادارے میں کام کرنے والی دوسری مقامی لڑکیوں کو بھی اس طرح کے مسائل کا سامنا رہا۔ لیکن شگفتہ کہتی ہیں: ’ کچھ مقامی خواتین اس میں پھنس گئیں اور میرا خیال ہے کہ کچھ نے مجبوری میں یہ پیش کش قبول کی کیوں کہ ان کو اپنے خاندان کی کفالت کے لیئے نوکری کی ضرورت تھی۔ شاید ان کو یہ بھی خدشہ تھا کہ اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں‘۔
شگفتہ کا کانڑیکٹ اپریل میں ختم ہونے والا تھا اور ان کا کہنا ہے کہ ’امدادی تنظیم میرے کانٹریکٹ کی تجدید کرنا چاہتی تھی اور تنظیم نے مجھے میری مرضی کی نوکری کی پیشکش بھی کی تھی لیکن میں نے یہ پیشکش قبول نہیں کی اور اسی طرح سے کئی اور لڑکیوں نے بھی نوکری چھوڑ دی‘۔ اس تنظیم میں کام کرنے والے ایک نوجوان شگفتہ کی بات سے متفق ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں یہ حالات دیکھ کر دل برداشتہ ہوگیا اور دو ماہ بعد میں نے نوکری چھوڑ دی‘۔
انہوں نے کہا کہ ’بعض مرد اپنے ساتھ نیند کی گولیاں بھی رکھتے لیکن مجھے نہیں معلوم وہ کس لیئے یہ گولیاں ساتھ رکھتے تھے‘۔ بعض اخبارات میں یہ خبریں بھی شائع ہوئیں کہ بعض امدادی تنظیموں کے ساتھ کام کرنے والی کچھ لڑکیاں دفتری اوقات یا سیر کے دوران بے ہوش ہوئیں۔ اس نوجوان کا کہنا ہے:’مجھے اس وقت بہت صدمہ پہنچا جب ایک امدادی کارکن نے ایک لڑکی کو زبردستی اپنی طرف کھینچا اور اپنی بانہوں میں لے لیا اور وہ بے بس اور مجبور لڑکی سوائے رونے کے کچھ نہ کرسکی‘۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں اس لڑکی کی بے بسی بھول نہیں سکتا ہوں اور اب یہ میرا مشن بن گیا ہے کہ میں ایسے لوگوں کو سبق سکھادوں‘۔ اگرچہ بہت ساری چھوٹی امدادی تنظیمیں ریلیف کا فیز ختم ہونے کے بعد واپس چلی گئیں لیکن پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں اب بھی لگ بھگ ایک سو ملکی اور غیر ملکی امدادی تنظیمیں بحالی اور تعمیر نو کے کاموں میں مصروف ہیں جن میں سینکڑوں مقامی لڑکیاں کام کرتی ہیں۔ شگفتہ کہتی ہیں کہ ’میں نے سنا ہے کہ دوسری امدادی تنظیموں میں بھی اسی طرح کا ماحول ہے اور میرا خیال ہے کہ ان تنظیموں میں کام کرنے والی لڑکیاں غیرمحفوظ ہیں‘۔ مقامی لڑکیوں کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کی خبروں کے بعد کشمیر کے اس علاقے میں امدادی تنظیموں کی موجودگی کے خلاف عوامی رد عمل بڑھتا جارہا ہے اور لوگوں اور امدادی تنظیموں کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ مذہبی لوگوں سے لے کر اعتدال پسندوں تک لگ بھگ ہر طبقہ فکر امدادی تنظیموں کے خلاف متحد ہوگئے ہیں۔ جنوبی ضلع باغ میں مذہبی، سیاسی اور طلبہ تنظیموں نے امدادی تنظیموں کے خلاف متفقہ طور پر مظاہرے کیے اور وہ مسلسل یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ امدادی تنظیمیں مقامی خواتین کو بھرتی نہ کریں اور یہ کہ ان مقامی لڑکیوں کو نوکریوں سے فارغ کریں جو پہلے سے ہی ان تنظیموں میں کام کر رہی ہیں‘۔
باغ شہر میں ایک اہم مذہبی رہنما عطااللہ شاہ نے کہا کہ ’امدادی تنظیمیں ہماری ثقافت کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور ہمارے روایتی اسلامی معاشرے میں بے حیائی پھیلا رہی ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ان میں کام کرنے والے بعض مرد ایسی سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہیں جو اسلامی تعلیمات، اخلاقی اقدار اور مقامی روایات سے مطابقت نہیں رکھتیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’امدادی تنظیمیں ہماری مجبور اور غریب لڑکیوں کا استحصال کررہی ہیں، ان کو جنسی طور پر ہراساں اور بلیک میل کیا جاتا ہے، ان کو بے راہ روی کی ترغیب دی جارہی ہے اور ورغلایا جارہا ہے‘۔ اقوام متحدہ کے ساتھ کام کرنے والے ایک ڈاکڑ یہ مانتے ہیں کہ لوگوں کے کچھ خدشات ٹھوس بنیادوں پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’ لڑکیوں کو کم مدت کے کنڑیکٹ پر بھرتی کیا جاتا رہا ہے اور زیادہ تر لڑکیاں نئی اور غیرہنرمند ہیں اور ان کو ہمیشہ نوکری کھوجانے کا ڈر لگا رہتا ہے اور یوں کچھ لڑکیاں اپنی نوکریوں کو بچانے کے لیئے انتظامیہ کے عہدیداروں کی ہر بات ماننے کے لیئے تیار ہوجاتی ہیں‘۔ ایک اور این جی او میں کام کرنے والی لڑکی آسیہ کہتی ہیں کہ ’یوں لگتا ہے کہ امدادی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے اداروں میں ہر طرف گدھ امڈ آئے ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’مجھے مجبوراً اپنا موبائل نمبر تبدیل کرنا پڑا‘۔ لوگوں کو یہ بھی اعتراض ہے کہ امدادی تنظیموں میں کام کرنے والی بعض لڑکیاں دیر سے گھر آتی ہیں جبکہ ان کے دفتری اوقات شام پانچ بجے تک ہیں اور یہ اعتراض بھی کیا جارہا ہے کہ لڑکیوں کو ملازمتوں میں ترجیح دے کر جان بوجھ کر اس علاقے کے ثقافتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ کشمیر کے متاثرہ علاقوں میں کام کرنی والی ایک غیرملکی تنظیم آکسفیم کے ترجمان شاہین چغتائی کا کہنا ہے کہ آکسفیم کی انتظامیہ کو مارچ میں مظفرآباد کے دفتر میں کام کرنے والے عملے کے بعض مرد اور خواتین کے بارے میں نامناسب رویے اور جنسی بے راہ روی کی شکایات ملیں۔ تحقیقات میں یہ پایا گیا کہ زیادہ تر الزامات بے بنیاد تھے لیکن بیان کے مطابق عملے کے کچھ لوگوں کا بظاہر اس طرح کا طرز عمل تھا جس سے دوسرے افرادگمراہ ہوئے ہوں۔ لیکن انہوں نےاس کی وضاحت نہیں کی۔
ترجمان کے تحریری جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ مظفرآباد میں عملے میں شامل ایک مرد اور ایک خاتون کا ایک شادی کی تقریب میں اس طرح کا رویہ تھا جو ثقافتی لحاظ سے نامناسب تھا اور عملے کے دوسرے لوگوں نے بھی اس کو دیکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ’ اگرچہ یہ واقعہ دفتری اوقات کے بعد ایک نجی تقریب میں پیش آیا لیکن ترجمان کا کہنا تھا چونکہ یہ آکسفیم کے قوائد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی تھی اس لیئے ان دونوں کو ملازمتوں سے فارغ کردیا گیا‘۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ آکسفیم کے اپنے عملے کے لیئے سخت قوائد و ضوابط ہیں اور اگر عملے کے کسی شخص کے خلاف بد اخلاقی کی کوئی شکایت ہوتی ہے تو اس کی تحقیقات کی جاتی ہیں۔ تاہم لوگ ایسے بیانات سے مطمئن نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس روایتی معاشرے میں لڑکیاں عمومی طور پر اپنی اور اپنے خاندان والوں کی عزت کی خاطر خاموش رہتی ہیں۔ لیکن شگفتہ کہتی ہیں کہ انہوں نے اس لیئے بولنے کا فیصلہ کیا کیوں کہ شاہد اس سے امدادی تنظیموں میں کام کرنے والی دوسری خواتین کی کچھ مدد ہوسکے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں سمجھتی ہوں کہ امدادی تنظیموں میں خواتین محفوظ نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ میں نے کسی امدادی تنظیم میں کام نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘۔ ایک اور غیرملکی تنظیم کے ساتھ کام کرنے والی خاتون زینب کہتی ہیں کہ’بعض پاکستانی مرد ساتھیوں کارویہ انتہائی نامناسب ہوتا ہے۔ ہمارے گھر کیا تباہ ہوئے کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنا سب کچھ پیش کرنے کے لیئے تیار ہیں‘۔ مذہبی رہنما عطااللہ شاہ کا کہنا ہے کہ اسلام لڑکیوں کا غیر محرموں کے ساتھ میل جول سختی سے منع کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بعض اوقات خواتین کو کئی کئی دنوں تک گھر سے دور غیر محرموں کے ساتھ رہنا پڑتا ہے اور یہی میل ملاپ تمام برائیوں کی جڑ ہے‘۔
مذہبی جماعتوں کے ساتھ ساتھ اعتدال پسند جماعتیں بھی امدادی تنظیموں سے نالاں ہیں۔ خود مختار کشمیر کی حامی ایک تنظیم کے رہنما عارف شاہد کا کہنا ہے کہ این جی اوز میں کام کرنے والی خواتین کو ان کے مرد عملے کی طرف سے جنسی طور پر ہراساں کرنے کی اطلاعات اتنی زیادہ ہیں کہ امدادی اداروں کا وجود روز بروز ناقابل برداشت ہوتا جارہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کو بنیادی ضروریات فراہم کرے لیکن مظفرآباد اور اسلام آباد کی حکومتوں نے متاثرہ علاقوں میں اپنے بجٹ سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا اور کشکول اٹھا کر بھیک مانگ رہے ہیں اور کشمیر کو امدادی تنظیموں کے حوالے کردیا ہے‘۔ سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ کشمیر کے اس علاقے میں عام لوگوں میں بھی امدادی تنظیموں کے خلاف غم و غصہ بڑھتا جارہا ہے۔ شہر باغ کے ایک دکاندار خان سلیم خان کا کہنا ہے کہ ’امداد کے نام پر ہماری عزتوں کو روندا جارہا ہے۔ ہمیں اپنی عزت کی قیمت پر کسی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔یہ امدادی تنظیمیں اپنا بوریا بستر لپیٹیں اور یہاں کے لوگوں کو خود اپنے قدموں پر کھڑا ہونے دیں‘۔ کشمیر کے اس علاقے میں اب یہ مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے کہ امدادی تنظیموں میں زیادہ سے زیادہ مقامی لوگ بھرتی کیے جائیں اور خواتین کی جگہ مردوں کو نوکریاں دی جائیں کیونکہ ان غیر معمولی حالات اور علاقے کی جغرافیائی صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے مرد ہی بہتر طریقے سے کام کرسکتے ہیں۔ |
اسی بارے میں زندگی کی قیمت اور مجبوری04 October, 2006 | پاکستان تعمیِر نو میں تاخیر، ملازمتوں میں کمی 05 October, 2006 | پاکستان گڑھی حبیب اللہ کا ’اوپن تھیٹر‘ سکول06 October, 2006 | پاکستان سڑکیں اب بھی بحال نہیں ہوسکیں07 October, 2006 | پاکستان مارگلہ ٹاورز: زلزلہ اور بعد کے گواہ 08 October, 2006 | پاکستان ’تعمیر نو فوج کا کام نہیں‘08 October, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||