BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 October, 2006, 03:11 GMT 08:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تعمیر نو فوج کا کام نہیں‘

تعمیر نو کے کام میں بہت سے ادارے شامل ہیں
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بعض اہم سیاسی جماعتیں کھل کر یہ مطالبہ کررہی ہیں کہ متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو میں فوج کا کردار ختم کیا جائے ۔ یہ مطالبہ ایک ایسے مرحلے پر کیا جارہا ہے جب زلزے آئے ایک سال گزر چکا ہے۔

کشمیر کے اس علاقے میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی کے سربراہ چوہدری عبدالمجید نے زلزے کے بعد ریلیف کے کاموں میں اہم اور اچھا کردار ادا کیا ۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ’فوج کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ گھر بنائے، معاوضے ادا کرے یا زمینوں کی پیمائش کرے۔‘

انہوں نے کہا ک’فوج کو تعمیر نو کے کام سے دور رہنا چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ لوگوں کے چھوٹے چھوٹے مسائل ہیں اور اگر فوج ان میں اپنے آپ کو ملوث کرے گی تو یہ ادارہ بدنام ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعمیر نو کا کام مکمل طور پر کشمیر کے اس علاقے کی حکومت کے حوالے کیا جانا چاہیے اس لیئے کہ سویلین حکومت ہی اس کام کو بہتر طریقے سے کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ کشمیر کے اس علاقے میں حکومت کے پاس افرادی قوت اور صلاحیت کی کمی نہیں ہے اور وہ خود تعمیر نو کا کام کرسکتی ہے۔‘

زلزلے کے بعد بھی فوج کے ردعمل پر تنقید ہوئی تھی
چوہدری عبدالمجید کا کہنا ہے کہ’ تعمیر نو کا کام اس لیئے بھی یہاں کی حکومت کے حوالے کیا جانا چاہیے کیوں کہ زلزے سے متعلق تعمیر نو اور بحالی کا ادارہ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہے اور یہ کہ کشمیر کے اس علاقے کی حکومت اسمبلی اور لوگوں کے سامنے جواب دہ ہے۔‘

حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پیپلز مسلم لیگ بھی تعمیر نو میں فوج کے کردار کی مخالف ہے۔

لیکن کشمیر کے اس علاقے کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان کا دعویٰ ہے کہ تعمیر نو کا کام ان کی حکومت ہی کر رہی ہے اور فوج ان کی مرضی اور کہنے پر اس کام میں ان کا ہاتھ بٹا رہی ہے۔

لیکن خود حکمران جماعت مسلم کانفرنس میں بعض رہنما بھی تعمیر نو میں فوج کے کردار کی مخالفت کر رہے ہیں۔

حمکران جماعت کے سینئر نائب صدر تعمیر نو کا کام اس وقت بہت سارے ادراروں کے ہاتھ میں ہے۔ ان میں ان کے کہنے کے مطابق’ وزیر اعظم پاکستان کا دفتر ، جی ایچ کیو ، فوج کی کور ، نائنٹین ڈیو ، پاکستان اور کشمیر کے اس علاقے کے ادارے برائے بحالی اور تعمیر نو، کشمیر کے اس علاقے کی حکومت ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ’ ایسی صورت حال میں کئی ادارے بے ہنگم طور میں ایک ہی کام میں الجھے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں اور اس کی وجہ سے کوئی بھی کام ٹھیک طرح سے نہیں ہورہا ہے ۔

فاروق حیدر پچھلی مسلم کانفرنس کی حکومت میں مشیر بھی رہے ہیں۔

بہت سے علاقوں سے ملبہ تک نہیں ہٹایا جا سکا

لیکن راجہ کا کہنا ہے کہ ’ کشمیر کے اس علاقے کی سابق یا موجودہ حکومت کا تعمیر نو کے کام میں عملی طور پر کوئی کردار نہیں رہا ہے اور سارا کام فوج خود کررہی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ فوج کو یہ کام کرنے کی ٹرینگ نہیں ہے جس کی وجہ سے بہت سارے مسائل اور خرابیاں بھی پیدا ہوگئی ہیں اور لوگ بہت مشکلات کا شکار ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ’ ہم ان کی ( فوج کی) بات نہیں سمجھ سکتے اور نہ ہی وہ ہماری بات سمجھ سکتے ہیں نتیجتاً تعمیر نو کا عمل بہت ہی سست روی سے جاری ہے۔

انہوں نےکہا کہ ’فوج جان چھوڑے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ تعمیر نو میں فوج کے کردار پر ہماری پچھلی حکومت کے تحفظات بھی تھے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ ’وہ ( فوج) خود یہ کام کرنا چاہتی ہے اور ہم اتنے طاقت ور نہیں کہ ہماری کوئی بات سنے۔‘

سابق وزیر اعظم سردار سکندر حیات خان نے اپنے دورِ حکومت میں اس پر وقتاً وقتاً اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ فاروق حیدر کا کہنا ہے کہ’ زلزلہ کشمیر میں آیا ہے ہم لوگ متاثر ہوئے ہیں، پیسہ یہاں پر خرچ ہونا ہے ، ہماری تعمیر نو ہونی ہے لیکن ہمیں ہی اس میں شریک نہیں کیا جارہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ’ ایسی صورت حال میں تعمیر نو کیسے ہوگی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ’ کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں ہے اس کی الگ شناخت ہے اور یہاں کے لوگوں کو تعمیر نو کے عمل میں شریک نہ کرنا بڑی زیادتی ہے اور یہ بات ملک پاکستان کے خلاف جائے گی ۔‘

انہوں نے کہ ’ کہ یہ پاکستان کے حق میں ہے کہ تعمیر نو کا کام کشمیر کے اس علاقے کی حکومت کے حوالے کیا جائے۔‘ انہوں نے کہا کہ اس کام کے لیئے کشمیر کے علاقے کی حکومت کے پاس اہلیت ہے ۔

تعمیر نو کا کام زلزے سے متعلق پاکستان کے تعمیر نو و بحالی کے ادارے کے سپرد ہے۔اگرچہ اس کے سربراہ ایک سویلین ہیں لیکن اصل اختیارات اس ادارے کے ڈپٹی چیرمین لیفٹیننٹ جنرل ندیم کے پاس ہیں اور یوں تعمیر نو کا کام فوج ہی کر رہی ہے۔

اسی بارے میں
اکتوبر سے اکتوبر تک
07 October, 2006 | پاکستان
عمر حفیظ کا کیوبا
07 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد