BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 October, 2006, 09:18 GMT 14:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مالکانِ مارگلہ ٹاورز کو حوالےکرو‘

مارگلہ ٹاور
منہدم عمارت سے متعلق رپورٹیں برطانیہ کومہیا کی جا چکی ہیں: ترجمان متاثرین
آٹھ اکتوبر سنہ دو ہزار پانچ کے زلزلے میں منہدم ہونے والے مارگلہ ٹاور کے مکینوں نے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ برطانیہ میں موجود اس عمارت کے پاکستانی مالک رمضان کھوکر اور ان کی اہلیہ کو پاکستان کے حوالے کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے متاثرین مارگلہ ٹاورز کے ترجمان افتخار چوہدری کا کہنا تھا کہ برطانوی ولی عہد ہونے کے ناتے شہزادہ چارلس کو چاہیئے کہ وہ برطانیہ کی کراؤن پراسیکیوشن سروس پر زور دیں کہ وہ رمضان کھوکر اور ان کے ساتھیوں کو قتل کا مجرم گردانتے ہوئے جلد از جلد پاکستان کے حوالے کرنے کا انتظام کرے تاکہ ان پر ٹاور کے انہدام سے ہلاک ہونے والے 72 افراد کے قتل کا مقدمہ چلایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اب جب کہ برطانوی حکام کو رمضان کھوکر کے مجرم ہونے اور منہدم عمارت سے متعلق تمام رپورٹیں مہیا کی جا چکی ہیں تو شہزادہ چارلس اس معاملے کی تیزی سے تکمیل میں نہایت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

افتخار چوہدری کا کہنا تھا کہ اگرچہ تاحال پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مطلوب افراد کی حوالگی کا باقاعدہ کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے لیکن اس کے باوجود اسی برس پاکستان کی جانب سے برطانیہ کو قتل کے ایک مقدمے میں مطلوب تین پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کو برطانوی حکام کے حوالے کیا جا چکا ہے جبکہ راشد رؤف کے حوالگی کا معاملہ زیرِ عور ہے تو اسی طرح برطانوی حکام کو بھی مذکورہ مطلوب افراد کو پاکستان بھیج دینا چاہیئے۔

ترجمان نے شہزادہ چارلس سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ برطانوی حکومت پر زور دیں کہ وہ ان مطلوب افراد سے برطانیہ میں تفتیش کے لیئے کمیٹی قائم کرے اور ان سے حاصل کردہ معلومات اور ان کے بیانات حکومتِ پاکستان کی تحقیقاتی ایجنسیوں کو فراہم کرے۔

یاد رہے کہ پاکستان کی عدالتِ عظمٰی بھی مارگلہ ٹاورز کے مالک رمضان کھوکر اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری اور ان کے بینک اکاؤنٹ منجمد کرنے کا حکم دے چکی ہے لیکن تاحال بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے ان افراد کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی ہے۔ علاوہ ازیں ان افراد کے خلاف انٹرپول کی جانب سے بھی ریڈ وارنٹ جاری کیئے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
دو اور زندگیاں بچا لی گئیں
10 October, 2005 | پاکستان
دیر رات گئے، ملبے کے نیچے
09 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد