BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 December, 2006, 02:37 GMT 07:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: سردی سے چار بچے ہلاک

زلزلے سے متاثرہ افراد اور سردی
لوگ اپنے آپ اور خاص طور پر بچوں کو سردی سے بچائیں
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ سال کے زلزے سے متاثرہ ایک گاؤں میں محکمہ صحت کے حکام کے مطابق پچھلے دو دنوں میں سردی اور پیٹ کے امراض کی وجہ سے کم از کم چار بچے ہلاک ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق سردی اور بیماریوں سے درجنوں افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔

مظفر آباد کے ضلعی ہیلتھ افسر سردار محمود خان نے بتایا کہ سردی اور اسہال سے متاثرہ بچوں کی یہ ہلاکتیں مظفرآباد کے شمال مغرب میں کوئی پندرہ کلومیڑ دور واقع ایک گاؤں کھنیہ میں ہوئی ہیں۔

حالیہ بارشوں اور پہاڑوں پر ہونے والی برفباری کی وجہ سے سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ ’آٹھ اکتوبر‘ کے زلزلے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کو ایک سال سے زیادہ کا عرصہ ہوجانے کے باوجود اب بھی زیادہ تر متاثرین عارضی رہائش گاہوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

ضلعی ہیلتھ افسر کا کہنا تھا کہ کھنیہ میں چند روز کے دوران لگ بھگ ساٹھ افراد سردی اور پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہوئے، جن میں سے تیرہ افراد کو

بارشیں اور برفباری
 حالیہ بارشوں اور پہاڑوں پر ہونے والی برفباری کی وجہ سے سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے
بہتر طبی سہولتوں کے لیے مظفرآباد کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

ان کا دعویٰ تھا کہ بروقت طبی امداد فراہم کیے جانے کے بعد گاؤں میں صورت حال اب قابو میں ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ اور خاص طور پر بچوں کو سردی سے بچائیں اور پانی ابال کر استعمال کریں۔

حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں صحت کی سہولتیں اب کافی بہتر ہیں۔ ان کے مطابق امدادی تنظیموں کے تعاون سے اب ایسے علاقوں میں بھی لوگوں کو طبی سہولتیں دستیاب ہیں جہاں زلزلے سے پہلے یہ موجود نہیں تھیں۔

آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے نتیجے میں کوئی پینتیس لاکھ لوگ بے گھر ہوئے تھے، جن میں سے بیشتر کو گذشتہ سال کی سردیاں خیموں میں گذارنا پڑی تھیں۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ اس سال صرف پینتیس ہزار لوگ خمیوں میں رہ رہے ہیں۔

لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت کم لوگوں کو سردی کا مقابلہ کرنے والے مستقل گھر میسر ہیں اور زیادہ تر لوگ ٹین کی چادر اور لکڑی سے بنی عارضی رہائش گاہوں میں رہ رہے ہیں، جو کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں پڑنے والی سخت سردی کے مقابلے میں نا کافی ثابت ہورہی ہیں۔

اسی بارے میں
اکتوبر سے اکتوبر تک
07 October, 2006 | پاکستان
اس بار بھی سردیاں خمیوں میں
05 October, 2006 | پاکستان
زندگی کی قیمت اور مجبوری
04 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد