BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 April, 2005, 00:24 GMT 05:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بات چیت بے نتیجہ رہے گی‘

صلاح الدین
کشمیر کے معاملے کے حل کے لیےبات چیت کے خلاف نہیں ہے البتہ بات چیت بامعنی اور نیتجہ خیز ہو
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں برسر پیکار عسکری تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل نے کہا ہے کہ وہ کشمیر کے معاملے کے حل کے لیےبات چیت کے خلاف نہیں ہے البتہ بات چیت بامعنی اور نیتجہ خیز ہو۔ یہ بیان ایک ایسے مرحلے پر سامنے آیا جب پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف ہندوستان کے وزیراعظم سے بات چیت کے لیےدہلی میں ہیں ۔

متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے سنیچر کو بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہمیشہ بات چیت اور تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے خواہش مند رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہندوستان، پاکستان اور کشمیر کی سیاسی قیادت یہ چاہتی ہے کہ کشمیری عسکری قیادت بھی مذاکرات کی میز پر آئے تو ہم اس کے لیےتیار ہیں۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیےشرط یہ ہے کہ بھارت کشمیر کی متنازعہ حثیت تسلیم کرے اور کشمیر کے معاملے کو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل کرنے کے لیےسہ فریقی مذاکرات پر رضامندی ظاہر کرے۔

صلاح الدین کا کہنا تھا کہ اس سے بھی پہلے بھارت کو کشمیری عوام اور عسکریت پسندوں کا اعتماد بحال کرنے کے کچھ اقدامات کرنا ہوں گے۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت کشمیر میں شہروں اور قصبوں سے فوج واپس بیرکوں میں بلائے، بھارتی جیلوں میں قید کشمیریوں کو رہا کرے اور فی الافور کشمیر میں ہر طرح کی عسکری کاروائیاں بند کرے ۔
انھوں نے کہا کہ اگر بھارت ایسا کرتا ہے تو اسی صورت میں کشمیری عسکریت پسندوں اور کشمیری عوام کا اعتماد بحال ہوسکتا ہے کہ بھارت مسلہ کشمیر کے حل میں مخلص اور سنجیدہ ہے اور یہ کہ بامقصد مذاکرات کے لیےیہ اقدامات ضروری ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہم بامقصد مذاکرات کے لیےہروقت تیار ہیں اور اس کے لیےہم ہر طرح کا تعاون کرنے لے لیےتیار ہیں۔

مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان بس سروس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انکے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ 7 اپریل کو جس طرح بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ اور بھارتی حکمران جماعت کانگریس کی رہنما سونیا گاندھی نے سرینگر سے پہلی بس کے ذریعے مظفرآباد آنے والے مسافروں کو الوداع کیا اس سے بھارت کی بدنیتی عیاں ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بھارت دنیا کو یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ کشمیر میں حالات معمول پر آگئے ہیں اور کشمیری تھک چکے ہیں اور وہ اب امن چاہتے ہیں ۔لیکن ان کا کہنا تھا کہ زمین پر صورت حال بالکل مختلف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف بس چلائی جارہی ہے اور دوسری طرف
ہندوستان کی فوج کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

صلاح الدین نے کہا کہ جن عسکری تنظیموں نے سرینگر اور مظفرآباد کے درمیان بس پر حملے کی دھمکی دی ہے گوکہ وہ متحدہ جہاد کونسل میں شامل نہیں ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی کاروائیوں میں حق بجانب ہیں۔

صلاح الدین نے مبینہ عسکریت پسندوں کی طرف سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اس ٹورسٹ سینٹر پر حملے کی حمایت کی جس میں بھارتی حکام نے پہلی بس کے مسافروں کو ٹھہرایا تھا۔

متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ نے مزید کہا کہ ہمیں پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے درمیان بات چیت سے کوئی توقع نہیں ہے اور یہ کہ اس بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔

اس کی دلیل انھوں نے یہ دی کہ بھارت اب بھی ہٹ دھرم ہے اور اس نے کشمیر کے معاملے پر اپنے موقف میں کوئی لچک پیدا نہیں کی ہے۔

انھوں نے کہا بھارت اب بھی پاکستان پر یہ الزام عائد کررہا ہے کہ وہ کشمیر میں اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیےعسکریت کو ہوا دے رہا ہےاور ایسے حالات میں ہم کس طرح یقین کریں گے ہندوستان اور پاکستان کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت سے کوئی نتیجہ نکلے گا اور یہ کہ بھارت تنازعے کو حل کرنے میں مخلص ہے۔

انھوں نے کہا جب تک بھارت تنازعے کشمیر پر اپنے موقف میں لچک پیدا نہیں کرتا اور کشمیر کی متنازعہ حثیت تسلیم نہیں کرتا اور اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق سنجیدہ اور مخلصانہ کوشش نہیں کرتا اس وقت تک تنازعہ کشمیر پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکتی اور نہ ہی کسی پیش رفت کی توقع کی جاسکتی ہے۔

انھوں نے واضع کیا کہ جب تک بھارت کی فوج کشمیر میں اس وقت تک وہ اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد