سردار عتیق امریکہ، یورپ کے دورے پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان اتوار کے روز امریکہ سمیت تین مغربی ممالک کے کوئی تین ہفتے کے دورے پر جارہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم اتنا لمبے عرصے کے دورے پر بیرون ملک جارہے ہیں۔ سرکاری اعلان کے مطابق کشمیر کے اس علاقے کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان اپنے دورے کے دوران بلجیم، برطانیہ اور امریکہ جائیں گے۔ اس دورے میں وہ برسلز میں کشمیر کے تنازعے پر منعقد کئے جانے والے ایک مذاکرے میں حصہ لیں گے اور برطانیہ میں ارکان پارلیمنٹ اور وہاں مقیم کشمیریوں سے ملاقاتیں کریں گے۔اس کے علاوہ وہ امریکہ کے شہر نیویارک میں وہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کا کشمیر پر کنٹیکٹ گروپ کے اجلاس میں شریک ہوں گے اور وہ ستائیس ستمبر کو واپس وطن روانہ ہونگے۔ اس دورے کے لئے خزانے سے پچھہتر لاکھ روپے پیشگی نکالے گئے ہیں۔ اس دورے پر وزیر اعظم سمیت پانچ لوگ جارہے ہیں جن میں ان کے ذاتی عملے کے علاوہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سیکریٹری شامل ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس پر شدید تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اس مرحلے پر وزیراعظم کے بیرون ملک دورے کا کوئی جواز نہیں ہے اور انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنا دورہ منسوخ کرکے زلزے سے متاثرہ علاقوں میں بحالی اور تعمیر نو کی نگرانی کریں اور اس کی رفتار تیز کریں۔ حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی کے سربراہ چوہدری عبدالمجید نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں بیشتر لوگ اب بھی خیموں اور عارضی رہائشوں میں رہتے ہیں اور سردیاں سر پر ہیں۔ اس مرحلے پر ان کے کہنے کے مطابق وزیر اعظم کے بیرون ملک انتے طویل دورے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اپنا دورہ منسوخ کرکے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کے کاموں کی خود نگرانی کریں اور اس کی رفتار تیز کریں۔ پیپلز مسلم لیگ کے رہنما خواجہ فاروق نے کہا کہ متاثرہ علاقے کے وزیر اعظم کا پچھہتر لاکھ روپے خرچ کرکے طویل دورہ کرنا تباہ حال متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ جماعت اسلامی کے سربرہ اعجاز افضل نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ چوبیس جولائی کو وزارات عظمیٰ کا حلاف اٹھانے کے بعد ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں سردار عتیق احمد خان کا بیرون ملک یہ دوسرا دورہ ہے۔ اس سے قبل وہ اگست میں سرکاری اخراجات پر عمرہ کرنے سعودی عرب گئے تھے۔ کشمیر کے اس علاقے میں بہت سارے لوگوں کو یہ بھی شکایت ہے کہ وزیر اعظم زیادہ تر اسلام آباد میں قیام کرتے ہیں اور یہ کہ وزرا کا حلف، کابینہ اور سرکاری افسران کےاجلاس تک اسلام آباد میں منعقد کئے جارہے ہیں۔ | اسی بارے میں کشمیر: ذوالقرنین نئےصدر منتخب28 July, 2006 | پاکستان کشمیر کابینہ: اسلام آباد میں حلف07 August, 2006 | پاکستان غیر ملکی تنظیموں پر تنقید 23 August, 2006 | پاکستان کشمیر: مسلم کانفرنس کی برتری22 July, 2006 | پاکستان سروے ٹیموں کے خلاف عوامی غصہ07 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||