BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر کابینہ: اسلام آباد میں حلف

’میں ریاست جموں کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے نظریے کا وفادار رہوں گا‘ سردارعتیق
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی نئی سولہ رکنی کابینہ نے پیر کو پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں حلف اٹھایا۔

جولائی میں ہونے والی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات جیتنے کے نتیجے میں مسلم کانفرنس برسراقتدار میں آئی لیکن پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حزب مخالف کی لگ بھگ تمام جماعتیں ان انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہیں۔


وزیروں کے علاوہ تین مشیروں اور ایک معاون خصوصی کی تقرری بھی کی گئی جن میں تین نے حلف اٹھایا اور ان کا درجہ کاببنہ کے وزیر کے برابر ہے۔ نئی کابینہ میں ایک خاتون بھی شامل ہیں اور یہ کہ کابینہ میں شامل وزیروں کے محکموں کا بھی اعلان کیا گیا۔

کشمیر کے اس علاقے کی قانون ساز اسمبلی کے کل انچاس میں حکمران جماعت مسلم کانفرنس کے اراکین کی تعداد اکتیس ہے اور ان میں سولہ کو وزیر اور ایک مشیر بنایا گیا۔ نئی حکومت زلزے کے نو ماہ بعد قائم ہوئی ہے اس لیئے اس میں زلزلہ زدگان کی بحالی اور تعمیر نو کی وزارت بھی شامل کی گئی ہے۔

حزب مخالف کی جماعتوں نے کابینہ کی تعداد پر بھی اعتراض کیا ہے اور چار دینی جماعتوں پر مشتمل متحدہ مجلس عمل کے سربراہ اعجاز افضل نے کہا کہ زلزلہ زدہ علاقے غریب اور پسماندہ ہیں اور اتنی بڑی کابینہ اس علاقے کی عوام پر بوجھ ہے لیکن نئی حکومت اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ زلزہ زدہ علاقوں کی تعمیر نو کے پیش نظر یہ وقت کی ضرورت تھی۔ حزب مخالف کی بعض جماعتوں نےنئی کابینہ کی طرف سے اسلام آباد میں حلف اٹھائے جانے کو بھی تینقید کا نشانہ بنایا۔

پاکستان جیسے بھارت
 لائن آف کنڑول کے اس جانب کشمیریوں کی حکومت سازی کا حق اسلام باد نے اسی طرح چھینا جس طرح ان کے کہنے کے مطانق لائن آف کنڑول کے دوسری جانب بھارت چھینتا آرہا ہے

متحدہ مجلس عمل کے سربراہ اعجاز افضل کا کہنا ہے کہ نئی مسلم کانفرنس کی حکومت انکے کہنے کے مطابق اسلام آباد کی مسلط کردہ ہے اور یہ کہ یہی وجہ ہے کہ وہ مظفرآباد کے بجائےاسلام آباد میں مقیم ہیں اور وہیں پر تمام کاروبار ہورہا ہے۔

حالیہ تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کشمیر کے اس علاقے کی کابینہ نے علاقے کے دارلحکومت مظفرآبادکے بجائے اسلام آباد میں حلف اٹھایا۔

متحدہ مجلس عمل اور بعض اور حزب مخالف جماعتیں یہاں تک کہتی ہیں کہ لائن آف کنڑول کے اس جانب کشمیریوں کی حکومت سازی کا حق اسلام باد نے اسی طرح چھینا جس طرح ان کے کہنے کے مطانق لائن آف کنڑول کے دوسری جانب بھارت چھینتا آرہا ہے۔

حزب مخالف کی تمام جماعتیں یہ مطالبہ کرتی ہیں کہ عبوری حکومت کے زیر نگرانی دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔

نئے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان نے گذشتہ ماہ اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہوئے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت اور وہاں ہونے والے انتخابات پر سوال اٹھائے تھے لیکن اب ان کو خود اسی انداز کی تنقید سامنا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ
کشمیر انتخابات، الحاق مخالفوں کی عدم شرکت
15 سال بعد۔۔
رؤف کشمیری پندرہ سال بعد گھر پہنچ گئے
راستہ نکل آیا
کشمیری بچے کے لئیے انڈین پاسپورٹ
کشمیری بچہخصوصی ویڈیو
زلزلے کے بعد اب سرحدوں کی الجھن
اسی بارے میں
نئی حکومت پچیس جولائی تک
14 July, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد