نئی حکومت پچیس جولائی تک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی نئے منتخب ہونے والے اراکین بائیس جولائی کو آٹھ مخصوص نشتوں کا انتخابات کریں گے اور ان انتخابات کے بعد امکان ہے کہ نئی حکومت پچیس جولائی تک تشکیل دے دی جائے گی ۔ گیارہ جولائی کو اکتالیس نشتوں پر ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں حکمران جماعت مسلم کانفرنس نے بیس نشتیں حاصل کرکے برتری حاصل کی ہے اور اب اسکے حکومت بنانے کے امکانات واضع ہیں ۔ کشمیر کی اسمبلی کی کل انچاس نشتوں میں اکتالیس نشتوں کا بالغ رائے دہی کے ذریعے انتخاب ہوتا ہے جبکہ آٹھ مخصوص نشتوں کا انتخاب منتخب ہونے والے ممبران اسمبلی تناسب کی بنیاد پر کرتے ہیں ۔ جن آٹھ مخصوص نشتوں پر انتخاب ہوگا ان میں پانچ خواتین کے لئے مختص ہیں جبکہ ٹیکنوکریٹ ، علما مشائخ اور پاکستان سے باہر رہنے والے کشمیریوں کے لئے ایک ایک نشت مختص ہے ۔ ان کا انتخاب منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی تناسب کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ گیارہ جولائی کو اکتالیس نشتوں پر انتخاب ہوئے تھے جن میں چالیس کے نتائج کا اعلان کردیا گیا جبکہ ایک نشت پر اٹھارہ جولائی کو دوبارہ انتخاب ہوں گے۔ ان انتخابات کے نتیجے میں بیس نشتیں حاصل کرکے برتری حاصل کرنے والی حکمران جماعت مسلم کانفرنس کو آٹھ مخصوص نشتوں میں سے چھ نشتیں حاصل ہوں گی اس طرح حکمران جماعت کی کل چھبیس نشتیں ہوجائیں گی اور یوں اس جماعت کے دوبارہ حکومت بنانے کے امکانات واضع ہیں ۔ حکران جماعت کو حکومت بنانے کے لئے سادہ اکثریت کی ضرورت ہے جو انچاس کے ایوان میں پچیس بنتی ہے ۔ اسی دوران مسلم کانفرنس کی پالیمانی بارٹی نے جماعت کے سربراہ سردار عتیق احمد خان کو ممکنہ وزیر اعظم کے عہدے کے لئے نامزد کیا ہے ۔ امکان ہے کہ نئی حکومت پچیس جولائی کو تک تشکیل پائے گی ۔ لیکن مسلم کانفرنس کی مخالف اہم جماعتوں بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی ، پیپلز مسلم لیگ اور چار مذہبی تنظیموں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے انتخابات کے نتائج ماننے سے انکار کیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ حکمران جماعت مسلم کانفرنس کو کامیاب کرانے کے لئے انتخابات میں دھاندلی کی گئی اور یہ کہ پاکستان کی مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے کھل کر مسلم کانفرنس کی حمایت کی ۔ ان انتخابات میں بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی کو سات نشتیں حاصل ہوئیں ، پیپلز مسلم لیگ کو چار ، آزاد آزاد چھ اور متحدہ قومی مومنٹ دو اور آزاد جموں کشمیر پیپلز پارٹی کو ایک نشت حاصل ہوئی ہے ۔ خود مختار کشمیری کی حامی تنظیموں کو گیارہ جولائی کے انتخابات میں حصہ لینے سے روکا گیا کیوں کہ یہاں کے انتخابی قانون کے تحت امید وار کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت ریاست کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق کے نظرئے پر یعقین رکھنے کا حلف نامہ داخل کرانا ضروری ہے لیکن خود مختار کشمیر کے حامی امیاواروں نے یہ حلف نامہ داخل نئی کیا جس کی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے خود مختار کشمیر کے حمامی پچاس سے زائد امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے ۔ نئی قائم ہونے والی حکومت کو سب سے بڑا چلینج متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو ہے ۔ | اسی بارے میں کشمیر: مسلم کانفرنس کی کامیابی13 July, 2006 | پاکستان ’دھماکوں کو کشمیر سے نہیں جوڑا‘12 July, 2006 | پاکستان پاکستان: کشمیر میں انتخابات10 July, 2006 | پاکستان کشمیر: ووٹوں کی گنتی جاری10 July, 2006 | پاکستان پاکستان: کشمیر انتخابات، پابندیاں 07 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||