BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 July, 2006, 18:13 GMT 23:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان: کشمیر میں انتخابات

 زلزلہ
تعمیر نو اور لوگوں کی بحالی کا معاملہ اولین ترجیجح رہا
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں منگل کو انچاس رکنی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہو رہے ہیں۔ ان انتخابات میں کوئی ڈیڑھ درجن سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے علاوہ چار دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس بھی حصہ لے رہی ہے ۔ انتخابات میں امن امان قائم رکھنے کے لیئے آٹھ ہزار پاکستانی فوجیوں سمیت پولیس اور پیرا ملڑی فورسز کے کوئی بیس ہزار اہلکار تعینات کیئے گئے ہیں۔


یہ انتخابات اکتالیس نشستوں پر ہو رہے ہیں۔ ان میں پاکستان کے زیر انتظام میں میں انتیس نشستوں پر جب کہ بارہ نشستیں سن انیس سو سنتالیس سے پاکستان میں بھارت کے زیرانتظام کشمیرکے پناگزینوں کے لیئے ہیں اور دیگر آٹھ مخصوص نشستوں کا انتخاب جیتنے والے ممبران اسمبلی بعد میں کریں گے۔ منگل کو ہونے والے انتخابات میں کوئی چوبیس لاکھ کشمیریوں کو رائے دہی کا حق ہے۔ زلزے کی تباہی کی وجہ سے اس بار کے انتخابات میں تنازعۂ کشمیر پس منظر میں رہا اور الیکشن میں حصہ لینے والی سبھی جماعتیں کہتی ہیں کہ متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو اور لوگوں کی بحالی ان کے لیئے اولین ترجیجح ہے۔ متاثرہ علاقوں کے لوگ بھی اس سے اتفاق رکھتے ہیں۔

خود مختار کشمیر کی حامی تنظیموں کو ان انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیاگیا۔

کشمیر کے اس علاقے کے الیکشن کمیشن نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ اور دیگر تنظیموں کے کوئی پچاس امیدواروں کے کاغذات نامزدگی اس لیئے مسترد کیئے کہ انہوں نے متنازعہ ریاست کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے نظریئے پر یقین رکھنے کا حلف نامہ داخل نہیں کرایا تھا۔ خود مختار کشمیر کی حامی تنظیموں نے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا۔

50 کے کاغذات نامزدگی مسترد
 الیکشن کمیشن نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ اور دیگر تنظیموں کے کوئی پچاس امیدواروں کے کاغذات نامزدگی اس لیئے مسترد کیئے کہ انہوں نے متنازعہ ریاست کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے نظریئے پر یقین رکھنے کا حلف نامہ داخل نہیں کرایا تھا

پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے انتخابی قانون کے تحت امیدواروں کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت ایک ایسے حلف نامے پر دستخط کرنا ضروری ہے جس میں اقرار کیا جاتا ہے کہ وہ نظریۂ پاکستان اور متنازعہ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے نظریئے پر یعقین رکھتا ہے۔

کشمیر کے اس علاقے میں منگل کو ہونے والے انتخابات میں کوئی سترہ سیاسی اور مذہبی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں اور کوئی چار سو امیدوار میدان میں ہیں جن میں لگ بھگ نصف آزاد ہیں۔

ان انتحابات میں حصہ لینے والی اہم تنظیموں میں حکمران جماعت مسلم کانفرنس کے علاوہ حزب مخالف کی جماعتیں بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی اور پیپلز مسلم لیگ کے علاوہ چار دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل شامل ہیں۔ اگرچہ کشمیر کے اس علاقے میں دینی جماعتوں کو ماضی میں کوئی زیادہ پذیرائی نہیں ملی لیکن اس بار مبصرین کا خیال ہے کہ ان کی انتخابات میں کارکردگی اس لیئے قدرے بہتر ہوسکتی ہے کیوں کہ انہوں نے زلزے میں امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد