کشمیر: ووٹوں کی گنتی جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں پولنگ کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ عمومی طور پر ووٹ ڈالنے کا عمل مقررہ وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے شروع ہوا لیکن کئی جگہوں پر اس میں تاخیر ہوئی۔تاہم امکان ہے کہ رات گئے غیر سرکاری نتائج آنا شروع ہو جائیں گے۔ انتخابات کے دوران کشمیر میں امن و امان قائم رکھنے کے لیئے آٹھ ہزار پاکستانی فوجیوں سمیت پولیس اور پیرملڑی فورسز کے کوئی بیس ہزار اہلکار تعینات کئے گئے تھے اور مجموعی طور پر صورت حال پرامن رہی۔ ان انتخابات میں حکمران جماعت مسلم کانفرنس سمیت سترہ جماعتوں نے حصہ لیا جبکہ پیپلز پارٹی اور متحدہ مجلس عمل نے پاکستان کی حکومت پر ان انتخابات میں مداخلت کا الزام لگایا ہے۔
متاثرہ علاقوں میں زیادہ تر پولنگ سٹیشن خیموں میں قائم کیئے گئے تھے۔ ابتدا میں کم تعداد میں لوگ ووٹ ڈالنے کے لیئے آئے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ووٹروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ اس دوران دیکھا گیا کہ متاثرہ علاقوں میں خواتین ووٹروں کی تعداد قدرے کم رہی اور اس کی وجہ پولنگ سٹیشنز پر سہولیات کی کمی اور گرمی کی شدت بتائی جاتی ہے۔ یہ انتخابات اکتالیس نشستوں پر ہوئے۔ ان میں پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کےشہریوں کے لیئے انتیس نشستیں جبکہ بارہ نشستیں سن انیس سو سنتالیس کے بعد سے پاکستان میں بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کے پناہ گزینوں کے لیئے ہیں اور دیگر آٹھ مخصوص نشستوں کا انتخاب جیتنے والے ممبران اسمبلی بعد میں کریں گے۔ منگل کو ہونے والے انتخابات میں چوبیس لاکھ کشمیریوں کو رائے دہی کا حق حاصل تھا۔ زلزلے کی تباہی کی وجہ سے اس مرتبہ کے انتخابات میں تنازعۂ کشمیر پس منظر میں رہا اور انتخابات میں حصہ لینے والی سبھی جماعتیں کہتی رہیں کہ متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو اور لوگوں کی بحالی ان کی اولین ترجیح ہے۔
ان انتخابات میں سترہ جماعتوں نے حصہ لیا جن میں حکمران جماعت مسلم کانفرنس، پیپلز پارٹی، پیپلز مسلم لیگ اور چار دینی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل اہم ہیں۔ خود مختار کشمیر کی حامی تنظیموں کو ان انتخابات میں حصہ لینے سے روکا گیا اور کشمیر کے اس علاقے کے الیکشن کمیشن نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ اور دیگر تنظیموں کے پچاس امیدواروں کے کاغذات نامزدگی اس لیئے مسترد کیئے کیونکہ انہوں نے ریاست کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے نظریئے پر یقین رکھنے کا حلف نامہ داخل نہیں کرایا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف خود مختار کشمیر کی حامی تنظیمیں مسسل احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔ حزب مخالف کی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے حکومت پاکستان پر انتخابات میں مداخلت کا الزام عائد کیا اور کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے کھل کر حکمران جماعت مسلم کانفرنس کی حمایت کی۔ متحدہ مجلس عمل اور حکمران مسلم کانفرنس نے کشمیری مہاجرین کے لیئے سندھ میں مخصوص دو نشستوں پر انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور ایم کیو ایم پر بوگس ووٹنگ کا الزام عائد کیا۔ | اسی بارے میں ’یہیں اپنی زندگیاں دوبارہ بنائیں گے‘28 October, 2005 | پاکستان مظفر آباد، دس خیمے نذر آتش11 March, 2006 | پاکستان زلزلہ: بچھڑنے والے افراد کی تلاش08 June, 2006 | پاکستان مظفر آباد: لاشوں کی تعداد 18 ہو گئی14 June, 2006 | پاکستان کشمیر مون سون، گھر گرنے کا خدشہ24 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||