کشمیر: مسلم کانفرنس کی کامیابی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکمران جماعت مسلم کانفرنس کو انچاس رکنی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں واضح برتری حاصل ہوئی ہے اور اس کے دوبارہ حکومت بنانے کے امکانات ہیں۔ یہ انتخابات اکتالیس نشستوں پر ہوئے جبکہ آٹھ مخصوص نشستوں کا انتخاب منتخب ہونے والے ممبران اسمبلی بعد میں کریں گے۔ ان میں پانچ نشستیں خواتین کے لیئے مختص ہیں جبکہ علما مشائخ، ٹیکنو کریٹ اور پاکستان سے باہر رہنے والے کشمیریوں کے لیئے ایک ایک نشست مخصوص ہے۔ حکمران جماعت مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خان، پیپلز پارٹی پارلیمنیٹیرینز کے سربراہ صاحزادہ اسحاق ظفر اور پیپلز مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیراعظم چوہدری سلطان محمود انتخاب جیتنے والے رہنماؤں میں شامل ہیں۔ حکمران جماعت نے چالیس نشستوں میں سے بیس نشستیں حاصل کی ہیں۔ ایک نشست پر انتخاب دوبارہ ہوگا۔ پیپلز پارٹی پارلیمنیٹیرینز نے سات نشستیں جبکہ پیپلز مسلم لیگ نے چار نشستیں حاصل کیں۔ چھ آزاد امید وار بھی منتخب ہوئے ہیں۔ دو نشستوں پر متحدہ قومی موومنٹ کو کامیابی ملی۔ جموں کشمیر پیپلز پارٹی نے ایک نشست پر کامیابی حاصل کی۔ حکمران جماعت مسلم کانفرنس کو حکومت بنانے کے لیئے پچیس نشستیں درکار ہیں اور انہیں آٹھ مخصوص نشستوں میں سے چھ نشستیں حاصل ہوجائیں گی اس طرح اس کی کل سیٹوں کی تعداد 26 ہوجائےگی۔ ان انتخابات میں سب سے زیادہ دھچکا پیپلز پارٹی پارلیمنیٹیرینز کو لگا۔ اس کی وجہ جماعت کے اندر دھڑے بندی بتائی جاتی ہے۔ سابق وزیراعظم چوہدری سلطان محمود نے پیپلزپارٹی سے الگ ہوکر اس سال اپریل میں پیپلز مسلم لیگ قائم کی۔
اسی طرح سے مسلم کانفرنس کی اندورنی دھڑے بندی سے اس کے ووٹ بینک پر بھی اثر پڑا۔ جو سات آزاد امیدوار انتخاب جیتے ہیں ان میں حکمران جماعت کے تین منحرفین بھی شامل ہیں لیکن ان انتخابات میں مذہبی تنظیمیں جن میں چار جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل بھی شامل ہے کوئی بھی سیٹ نہیں جیت سکی۔ اگرچہ ماضی میں بھی مذہبی تنظیمیں اس خطے میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کر پائی ہیں لیکن اس بار یہ خیال کیا جارہا تھا کہ زلزے میں امدادی کاموں میں ان کے کردار کے باعث وہ انتخابات میں کچھ سیٹیں حاصل کرلیں گی مگر ایسا نہیں ہوا۔ پیپلز پارٹی پارلیمنیٹیرینز اور متحدہ مجلس عمل نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان نے حکمران جماعت کی کھل کر حمایت کی۔ یہ انتخابات زلزے کے نو ماہ بعد ہوئے اس لیئے ان انتخابات میں زلزلہ ہی اہم موضوع بنا رہا۔ نئی حکومت کے لیئے لوگوں کی آباد کاری اور تعمیر نوسب سے بڑا چلینج ہے۔ اس وقت متاثرہ علاقوں میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو نئے گھروں کی تعمیر شروع کر پائے ہیں۔ زیادہ تر لوگ اب بھی خیموں یا عرضی رہائش گاہوں میں رہ رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں 32 نشستوں کے نتائج کا اعلان12 July, 2006 | پاکستان انتخابات: جے کے ایل ایف کا مظاہرہ07 July, 2006 | پاکستان پاکستان: کشمیر انتخابات، پابندیاں 07 July, 2006 | پاکستان پاکستان: کشمیر میں انتخابات10 July, 2006 | پاکستان کشمیر: ووٹوں کی گنتی جاری10 July, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||