انتخابات: جے کے ایل ایف کا مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خود مختار کشمیر کی حامی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے قانون ساز اسمبلی کے آئندہ انتخابات میں اپنے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف جمعع کے روز احتجاج کیا۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گیارہ جولائی کو انچاس نشتوں پر مشتمل قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہورہے ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایسی تنظیمیوں یا افراد پر انتخابی عمل میں شرکت کی ممانعت ہے جو متازعہ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے نظریے پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ امان اللہ خان کی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے یہ احتجاجی مظاہرہ کشمیر کے اس علاقے کے جنوبی ضلع راولاکوٹ کے صدر مقام پر کیا۔ اس احتجاجی مظاہرے میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔ تنیظم کے سربراہ امان اللہ خان نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا ان کی جماعت کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر کے ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے امان اللہ خان کے دھڑے کی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یا جے کے ایل ایف نے تیس نشتوں پر اپنے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے جبکہ خود مختار کشمیر کے حامی کئی تنطیموں کے اتحاد کل جماعتی قومی اتحاد یا اپنا نے بیس نشتوں پر اور چھوٹی تنظیموں نے بھی کچھ نشتوں پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔ لیکن ان تنظیموں کے امیدواروں نے حلف نامے کا وہ حصہ کاٹ دیا تھا جس پر یہ لکھا ہے کہ وہ یعنی امیدوار ریاست جموں کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق کے نظریے پر یقین رکھتا ہے اور انہوں نے اس حلف نامے پر اپنے قلم سے یہ تحریر کیا کہ وہ خودمختار کشمیر پر یقین رکھتے ہیں۔ اس علاقے کے الیکشن کمیشن نے جون کے اوائل میں یہ کہہ کر ان تمام امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے کہ انہوں نے ریاست کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق کے نظریے پر یقین رکھنے کے حلف نامے پر دستخط نہیں کیے تھے۔ ماضی میں بھی خود مختار کشمیر پر یقین رکھنے والے امید واروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جاتے رہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے انتخابی قانون کے تحت امیدوار کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت ایک ایسے حلف نامے پر دستخط کرنا ضروری ہے جس میں اقرار کیا جاتا ہے کہ وہ نظریۂ پاکستان اور متنازعہ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے نظریے پر یقین رکھتا ہے ۔ کشمیر کے اس علاقے میں گیارہ جولائی کو عام انتخابات ہورہے ہیں۔ اس علاقے کی قانون ساز اسمبلی کی نشتوں کی کل تعداد انچاس ہے جن میں چالیس نشستوں پر براہ راست بالغ رائے دہی کے ذریعے انتخاب ہوتا ہے۔ ان چالیس نشستوں میں اٹھائیس پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے لیے مختص ہیں جبکہ بارہ نشتیں سن انییس سو سنتالیس سے مقیم کشمیری پناہ گزینوں کے لیے ہیں۔ دیگر آٹھ مخصوص نشستوں کا انتخاب منتحب ممبران اسمبلی بعد میں کرتے ہیں۔ ان میں پانچ نشستیں خواتین کے لیے مختحص ہیں۔ حکمران جماعت مسلم کانفرنس سمیت کوئی چودہ سیاسی اور مذہبی جماعتیں انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں اور کئی آزاد امید وار ہیں۔ | اسی بارے میں جماعت الدعوۃ کے حق میں مظاہرہ09 May, 2006 | پاکستان پندرہ سال سے باپ کا انتظار19 May, 2006 | پاکستان بھارتی موقف میں لچک: فضل الرحمان26 May, 2006 | پاکستان دوسری بس سروس: آج سے آغاز19 June, 2006 | پاکستان دیہاتوں سے لوگوں کی منتقلی جاری29 June, 2006 | پاکستان پاکستان: کشمیر انتخابات، پابندیاں 07 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||