BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 June, 2006, 22:57 GMT 03:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دوسری بس سروس: آج سے آغاز

پہلی بس گزشتہ سال سات اپریل کو مظفر آباد سے سری نگر کے لیے روانہ ہوئی تھی
آج یعنی بیس جون کو ہندوستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے درمیان ایک سال کے عرصے میں دوسری بس سروس کا آغاز ہورہا ہے۔

اس نئی بس سروس کو روالاکوٹ اور پونچھ بس سروس کا نام دیا گیا ہے لیکن در حقیقت یہ بس سروس پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع راولاکوٹ کے سرحدی گاؤں تیتری نوٹ اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پونچھ کے درمیان شروع ہو رہی ہے۔

تیتری نوٹ اور اسکے محلقہ علاقے برسوں ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں کی گولہ باری کی تبادلے کی زد میں رہے جس کی وجہ اس علاقے میں بہت سے لوگ ہلاک و زخمی ہوئے اور لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچا۔

لیکن اب لائن آف کنڑول پر گولہ باری نہیں ہوتی بلکہ دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان مسکراہٹوں اور تحائف کا تبادلہ ہوتا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام نے مسافروں سے کہا ہے کہ جنوبی ضلع روالاکوٹ کے صدر مقام سے سنتالیں کلومیڑ کے فاصلے پر واقع آخری سرحدی گاؤں تیتری نوٹ اپنے طور پر پہنچیں۔

دوسری بس سروس کا آغاز اس سال اپریل میں ہونا تھا لیکن یہ سروس دو ماہ کی تاخیر کے بعد شروع ہو رہی ہے

وہاں سے ان مسافروں کو علامتی طور پر بس میں بٹھا کر بس ٹرمینل تک سو میڑ کا فاصلہ طے کرایا جائے گا اور جہاں سے مسافر لائن آف کنڑول تک پون کلومیڑ سے زیادہ کا فاصلہ پیدل سفر کرکے چک دا باغ کے مقام پر لائن آف کنڑول عبور کریں گے۔

البتہ دوسری طرف سے مسافر پونچھ شہر سے چک دا باغ تک بس پر آئیں گے اور وہاں سے وہ پیدل لائن آف کنڑول عبور کرکے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہوں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے امکانی طور پر تیس مسافر اپنے عزیزوں سے ملنے لائن آف کنڑول کے دوسری طرف جائیں گے اور اتنی ہی تعداد میں دوسری جانب سے کشمیر کے اس علاقے میں آنے کی توقع ہے۔

لوگ کیا چاہتے ہیں اور کیا کہتے ہیں
گزشتہ برس اکتوبر کے زلزے کے بعد لائن کنڑول پر تین جگہ سے کراسنگ پوائنٹ کھولے گئے۔ لیکن آر پار جانے کے لئے طویل اور پچیدہ طریقے کار کے باعث منقسم خاندانوں کے لوگوں کی لائن آف کنٹرول کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں جانے کی تعداد توقع سے بہت کم رہی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس طریقہ کار کو آسان کیا جائے تا کہ زیادہ سے زیادہ بچھڑے ہوئے خاندان آپس میں مل سکیں۔

گذشتہ سال اپریل میں سرینگر اور مظفرآباد کے درمیان بس سروس شروع ہونے کے بعد یہ دونوں کشمیر کو ملانے والی دوسری بس سروس ہے ۔

تیتری نوٹ اور پونچھ کے درمیان شروع ہونے والی اس بس سروس کے لئے بھی وہی طریقہ کار اپنایا گیا ہے جو سرینگر اور مظفرآباد کے درمیان بس سروس کے لئے طے ہے۔ یعنی یہ بس سروس بھی مہینے میں دو مرتبہ چلے گی اور ہر مرتبہ ایک جانب سے زیادہ سے زیادہ تیس مسافر سفر کرسکیں گے اور اس بس کے مسافر بھی پاسپورٹ اور ویزہ کے بجائے خصوصی اجازت نامے پر سفر کریں گے۔

مظفرآباد اور سرینگر بس سروس کی طرح تیری نوٹ اور پونچھ کے درمیان چلنے والی بسیں بھی لائن آف کنڑول عبور نہیں کریں گے بالکہ ان کے مسافروں کو پیدل لائن آف کنڑول عبور کرنا پڑے گی۔

تیتری نوٹ کے مقام پر زلزے کے بعد گذشتہ سال نومبر میں منقسم کشمیری خاندانوں کے آنے جانے اور امداد سامان کے تبادلے کے لئے کراسنگ پواینٹ کھولا گیا تھا جہاں سے اب تک دونوں جانب سے صرف دو سو افراد آر پار جاسکیں ہیں۔

گذشتہ سال اپریل میں سرینگر اور مظفرآباد بس سروس شروع کی گئی تھی ۔ زلزے کے بعد لائن کنڑول پر تین جگہ سے کراسنگ پوائنٹ کھولے گئے۔ لیکن آر پار جانے کے لئے طویل اور پچیدہ طریقے کار کے باعث منقسم خاندانوں کے لوگوں کی لائن آف کنٹرول کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں جانے کی تعداد توقع سے بہت کم رہی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس طریقہ کار کو آسان کیا جائے تا کہ زیادہ سے زیادہ بچھڑے ہوئے خاندان آپس میں مل سکیں ۔

اسی بارے میں
بسیں منزلوں پر پہنچ گئیں
21 April, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد