’تاریخ روز روز رقم نہیں ہوتی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مظفر آباد کے سول سیکریٹیریٹ کے قریب واقع ٹرمینل سے سرینگر کے لیے بس کی روانگی کے موقع پر ٹور کے منتظم وقار عامر نے یہ کلمات ادا کیے ’ آج ایک اور دیوارِ برلن زمیں بوس ہو جائے گی۔‘ عامر ریٹائرڈ کرنل ہیں اور سیر و سیاحت کے انتظام کا منافع بخش کاروبار چلا رہے ہیں۔ عامر کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جو اس کوشش میں ہیں کہ اگر لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب بس سروس باقاعدہ طور پر شروع ہو جاتی ہے تو وہ اپنے کاروبار کو مزید وسیع کریں۔ اس حوالے سے سات اپریل کو بس سروس کے آغاز کے موقع پر وقار عامر کی خوشی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ دیگر کشمیریوں کی طرح انہیں بھی بس سروس کے آغاز پر شبہ تھا کیونکہ دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے سلسلے میں پاکستان اور بھارت نے سرینگر اور مظفر آباد کے درمیان بارہا بس سروس کا آغاز کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار کشیدگی ہی میں اضافہ ہوتا رہا۔ مگر جمعرات کو بس کے ٹرمینل سے روانہ ہوتے ہی وہاں موجود ہزاروں افراد کو پہلی مرتبہ حقیقتاً یقین ہوا کہ یہ سب اصل میں ہونے جا رہا ہے۔ منتظمین نے ابتدا میں سب سے کہہ رکھا تھا کہ کسی نجی گاڑی کو بس کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ لیکن پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق جوں جوں گیارہ بجے کا وقت قریب آتا گیا تو منتظمین پر بھی یہ بات آشکار ہوتی چلی گئی کہ اس تاریخی موقع پر وہ سب چیزوں کو ایک حد سے زیادہ کنٹرول نہیں کر پائیں گے۔ بس کے روانہ ہوتے ہی اس کے پیچھے کم از کم پچاس گاڑیوں کا قافلہ تھا۔ دریائے جہلم سے گزرتے ہوئے کچھ ایسا ماحول پیدا ہو چکا تھا کہ صحافیوں کا ایک سو پچاس رکنی وفد بھی ہکا بکا تھا۔ بھارت ہمیشہ یہ اصرار کرتا رہا ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے لیکن بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ بذات خود اس منفرد موقع پر موجود تھے۔ اس کے برعکس پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں مظفرآباد سے چلنے والی بس کو الوداع کہنے کے لیے کوئی بھی پاکستانی اعلیٰ اہلکار موجود نہیں تھا۔ یہ غالباً اس بات کا اشارہ تھا کہ پاکستان اب بھی کشمیر کو متنازعہ علاقہ گردانتا ہے۔ باسٹھ کلومیٹر طویل بس روٹ پہاڑی سلسلے سے گزرنے کے باوجود راستے میں ہر جگہ لوگوں کا ہجوم تھا جو خوشی سے ہاتھ ہلانے اور نعرے بلند کرنے میں مصروف رہا۔ لیکن وہ منظر یادگار تھا جب پہلے پاکستانی نے ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ملانے والے پچاس فٹ لمبے پل پر قدم رکھا۔ سب پر خاموشی طاری تھی۔۔۔ اور کیوں نہ ہوتی، تاریخ کوئی روز روز رقم تو نہیں ہوتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||