BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 May, 2006, 14:47 GMT 19:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جماعت الدعوۃ کے حق میں مظاہرہ

احتجاجی مظاہرہ
کالعدم تنظیم کے ارکان نے زلزلہ زدگان کے لیئے امدادی کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جہاد کی حامی پاکستان کی مذہبی تنظیم جماعت الدعوۃ پر امریکہ کی طرف سے عائد کی جانے والی پابندی کے خلاف منگل کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں زلزلے کے متاثرین نے مظاہرہ کیا۔

جماعت الدعوۃ کی قیادت کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے بانی حافظ محمد سعید کر رہے تھے۔ امریکہ نے گزشتہ ماہ کے آخر میں اس تنظیم پر پابندی عائد کرکے اس کے تمام اثاثے منجمد کردیئے ہیں۔

جماعت الدعوۃ پر امریکہ کی طرف سے پابندی کے خلاف یہ مظاہرہ مظفرآباد میں کیا گیا اور اس میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی اور انہوں نے امریکہ کی طرف سے جماعت الدعوۃ پر پابندی کی مذمت کی ۔مظاہرین نے امریکہ کے خلاف اور جماعت الدعوۃ کے حق میں نعرہ بازی بھی کی۔

مظاہرین نے بینرز اور کتبے بھی اٹھا رکھے تھے جس پر امریکہ کے خلاف نعرے درج ہونے کے ساتھ ساتھ آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں جماعت الدعوۃ کے امدادی اور رفاحی کردار کو بھی اجاگر کیا گیا تھا۔

ایک کتبے پر یہ نعرہ درج تھا کہ’ آپ کے شنوک آنے سے پہلے تین لاکھ سے زائد خاندانوں کو کندھوں پر اٹھاکر راشن پہنچانے والے کون تھے؟‘ اور دوسرے پر یہ درج تھا کہ ’انسانیت کی خدمت کرنے والے دہشت گرد نہیں ہیں‘۔

جماعت الدعوۃ منظم پیمانے پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کا اظہار آٹھ اکتوبر کے زلزے کے فوراً بعد ہوا جب اس تنظیم کے کارکنوں نے متاثرہ علاقوں میں بڑی تیزی اور سرعت سے امدادی سرگرمیاں شروع کردی تھیں۔ اس تنظیم کا دعویٰ ہے کہ یہ واحد تنظیم ہے جو سب سے پہلے متاثرین تک پہنچی۔

پچھلے دنوں اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پاکستان میں تعینات بھارت کے ہائی کمشنر شیوشنکر مینن نے لاہور میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئےکہا تھا کہ سرحد پار دہشت گردی کو روکنے کے لیئے مزید کوششیں درکار ہیں جبکہ گزشتہ اکتوبر کے زلزے میں ان کے کہنے کے مطابق دہشت گرد تنظیموں نے امدادی کاموں میں حصہ لیا اور عوام کی نظر میں ان کی حثیت بحال ہوگئی۔

اگرچہ کسی جماعت نے آج کے اس مظاہرے کی کال نہیں دی تھی لیکن اس مظاہرے میں عام شہریوں کے علاوہ جماعت الدعوۃ کے کچھ لوگ بھی موجود تھے۔

جماعت الدعوۃ کے ایک رہنما حاجی جاوید الحسن کا کہنا تھا کہ مظاہرے میں لوگوں کی اتنی بڑی تعداد میں شرکت نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ امریکی فیصلے کو ناپسندیدگی سے دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو یاد ہے کہ ہم سب سے پہلے ان تک پہنچے اور یہ کہ ہم متاثرین کی خدمت کرتے رہے۔ جماعت الدعوۃ ابتدائی سرگرمیوں کے بعد لوگوں کی بحالی اور تعمیر نو میں بھی اپنا کردار کررہی ہے ۔

امریکہ نے گزشتہ ماہ جماعت الدعوۃ اور اس کی ذیلی تنظیم ادارہ خدمت خلق پر یہ کہہ کر دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا کہ یہ لشکر طیبہ کا دوسران نام ہے اور امریکہ میں اس تنظیم کے اثاثے منجمد کردیئے گئے۔

سن دو ہزار دو میں بھارتی پارلیمان پر حملے کے بعد لشکر طیبہ پر پابندی لگائی گئی تھی۔ اس وقت کے لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ محمد سیعد لشکر طیبہ سے الگ ہوگئے تھے اور انھوں نے جماعت الدعوۃ کے نام سے نئی تنطیم قائم کی۔

حافظ سعید کا کہنا ہے کہ ہے کہ جماعت الدعوۃ کا لشکر طیبہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ کہ ان کی جماعت پاکستان میں مذہبی اور فلاحی کاموں میں سرگرم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ہندوستان کو خوش کرنے کے لیئے ان کی جماعت پر پابندی عائد کی ہے۔

اگرچہ حکومت پاکستان نے جماعت الدعوۃ کو کڑی نگرانی میں رکھا ہے لیکن امریکہ کی جانب سے اس تنظیم کے پر پابندی کے بارے میں پاکستان کی وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے گزشتہ ہفتے اپنا ابتدائی ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر امریکہ اپنے داخلی قوانین کے تحت کسی تنظیم پر پابندی عائد کرے تو ضروری نہیں کہ پاکستان بھی ایسا کرے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد