کشمیر: ذوالقرنین نئےصدر منتخب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں نئی منتخب ہونے والی حکمران جماعت کے امیدوار جمعرات کو صدر منتخب ہوئے۔ مسلم کانفرنس نے حالیہ انتخابات میں انچاس کے ایوان میں اکتیس نشتیس حاصل کرکے دو تہائی اکثریت سے انتخابات جیتے اور چوبیس جولائی کو دوبارہ اقتدار سنبھالا۔ مسلم کانفرنس کے صدر کے امیدوار 73 سالہ راجہ ذوالقرنین چالیس ووٹ حاصل کرکے صدر منتخب ہوئے اور ان کے مد مقابل حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار قمر زمان نے آٹھ ووٹ حاصل کیئے۔ کشمیر کے اس علاقے کے صدر کے انتخاب کے لیئے انتخابی کالج چھپن اراکین پر مشتمل پر ہوتا ہے۔ اس میں قانون ساز اسمبلی ( ایوان زیریں ) کے انچاس اور کشمیر کونسل ( ایوان بالا ) کے نامزد اراکین کو چھوڑ کر چھ منتخب اراکین ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے وزیر برائے امور کشمیر جو کہ عہدے کے لحاظ سے کشمیر کونسل کے ممبر ہوتے ہیں ان کو بھی ووٹ دینے کا حق ہے۔ دونوں ایوانوں میں حکمران جماعت کے کل اراکین کی تعداد چھتیس ہے اور متحدہ قومی موومنٹ کے دو اور مسلم کانفرنس کے منحرفین تین آزاد امید واروں نے بھی مسلم کانفرنس کےصدر کے امیدوار کو ہی ووٹ دیا۔
واضع رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے مسلم کانفرنس کے نئے منتخب ہونے والے وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کو بھی ووٹ دیا تھا۔ حزب مخالف کی دو جماعتوں پیپلز مسلم لیگ اور جموں کشمیر پیپلز پارٹی نے حکومت پاکستان کی طرف سے مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کے طور پر ان صدارتی انتخابات سے الگ رہے۔ ان جماعتوں کے پانچ اراکین میں سے چار نے مببینہ دھاندلی کے خلاف احتجاجاً ابھی تک حلف نہیں اٹھایا ہے۔ کشمیر کے اس علاقے کی حالیہ تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ حزب مخالف کی تمام جماعتیں بیک آواز یہ کہتی ہیں کہ پاکستان کی حکومت مسلم کانفرنس کو کامیاب کرانے کے لیئے گیارہ جولائی کو ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کی گئی۔ ماضی کی طرح ان انتخابات میں خود مختار کشمیر کے حمامی تنظیموں کو حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ خود مختار کشمیر کے حامی پچاس سے زائد امیدواروں کا کاغذات نامزدگی اس لیئے مسترد کردیئے گئے تھے کیوں کہ انھوں نے کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق کے نظریئے پر یقین رکھنے کا حلف نامہ داخل نہیں کرایا تھا۔ انتخابی قانون کے تحت ہر امیدوار کے لیئے ضروری ہے کہ وہ یہ حلف نامہ داخل کرائے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے نئے منتخب ہونے والے صدر راجہ ذوالقرنین سن 1933 جموں میں پیدا ہوئے تھے اور یہ علاقہ اب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہے۔ ان کے والد راجہ خان بہادر افضل سن سنتالیس سے قبل ڈوگرہ حمکران مہاراجہ ہری سنگھ کے دور حکومت میں صوبہ جموں کے گورنر تھے۔ ذوالقرنین جمعرات کو صدر منتخب ہونے بعد پاکستان کی فوج کے سابق جنرل محمد انور خان کی جگہ لی ہے۔ یکم اگست دو ہزار ایک کو صدر منتخب ہونے سے چند روز پہلے محمد انور خان کو پاکستان کی فوج میں میجر جنرل کے عہدے سے ریٹائر کیا گیا تھا اور ان کو صدر کے عہدے کے لیئے انتخاب لڑنے کے لیئے قانون میں تبدیلی بھی گئی تھی۔ قانون کے مطابق کوئی بھی ملازم ریٹائرمنٹ کے بعد دو سال تک انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتا ہے۔ نئے منتخب ہونے والے صدر راجہ ذوالقرنین اگست میں اپنے نئے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ کشمیر کے اس علاقے میں صدر آئینی سربراہ ہوتے ہیں اور انتظامی سربراہ وزیر اعظم ہیں۔ | اسی بارے میں سردار عتیق کشمیر کے نئے وزیرِاعظم 25 July, 2006 | پاکستان نئی حکومت پچیس جولائی تک14 July, 2006 | پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار گرفتار13 July, 2006 | پاکستان انتخابات: جے کے ایل ایف کا مظاہرہ07 July, 2006 | پاکستان پاکستان: کشمیر انتخابات، پابندیاں 07 July, 2006 | پاکستان الحاقِ پاکستان کی شرط: خاتمے پرغور26 November, 2004 | پاکستان مشرف کا کشمیر کے لیے ایک فارمولہ25 October, 2004 | پاکستان بین الکشمیری تاریخی وفد 13 October, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||