الحاقِ پاکستان کی شرط: خاتمے پرغور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم سردار سکندر حیات خان نے اشارہ دیا ہے کہ وہ متنازعہ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے نظریے پر یقین نہ رکھنے والی جماعتوں یا افراد پر انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی کو ختم کرنے پرغور کر رہے ہیں ۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایسی تنظیموں یا افراد پر انتخابی عمل میں شرکت کی ممانعت ہے جو متنازعہ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق پر یقین نہیں رکھتے ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ آئین میں ترمیم کے ذریعے اس پابندی کو ختم کیا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ حکمران جماعت مسلم کانفرنس ریاست کشمیر کا الحاق پاکستان سے چاہتی ہے۔ سردار سکندر حیات خان نے یہ بیان بھارت سے آئے ہوئے صحافیوں کے اعزاز میں دی گئی ضیافت کے موقع پر سوالوں کا جواب دیتے ہوئے دیا۔ سکندر حیات خان نے کہا کہ کہ ہم اس پابندی کو آئندہ ختم کریں گے اور یہ کہ حکمران جماعت مسلم کانفرنس کی پارلیمانی پارٹی پہلے سے ہی ان خطوط پر سوچ رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکمران جماعت مسلم کانفرس کے فیصلے کے بعد ہی اس پابندی میں نرمی کی جائے گی اور ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت میں اپنی ایک پوزیشن ہے اور اسکی وجہ سے ان کو یہ یقین ہے کہ اس پابندی کو ختم کردیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور اس پابندی کے خاتمہ کے حق میں ہیں ۔انھوں نے اشارہ دیا کہ یہ پابندی سن دد ہزار چھ میں کشمیر کے اس علاقے میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل ختم کی جاسکتی ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشیر کے آئین کی رو سے کسی بھی شخص یا تنظیم کو ریاست کشمیر کی پاکستان میں شمولیت کے نظریے کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے یا اس نوعیت کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں۔ پابندی کا اطلاق انتخابی عمل میں بطور امیدار حصہ لینے پر بھی ہوتا ہے کیونکہ کشمیر کے اس علاقے کے انتخابی قانون کے تحت امیدوار کے لیے ایک ایسے حلف نامے پر دستخط کرنا ضروری ہیں جس میں اقرار کیا جاتا ہے کہ وہ نظریہ پاکستان، کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے نظریے اور پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری پر یقین رکھتا ہے ۔ اسی طرح رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد بھی یہ ضروری ہے کہ پاکستان سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے سپیکر سردار سیاب خالد نے کہا ہے کہ آئین میں ترمیم دونوں ایوانوں یعنی کشمیر کونسل اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں سادہ اکثریت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون اسمبلی میں اراکین کی کل تعداد اڑتالیس ہے جن میں حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے ممبران کی تعداد بتیس ہے اسی طرح ووٹ کا حق رکھنے والے کشمیر کونسل کے چھ ممبران میں سے تین کا تعلق حکمرا ن جماعت سے ہے ۔ اسکے علاوہ وزیر امور کشمیر کو بھی جو اپنے عہدے کے لحاظ سے کشمیر کونسل کے ممبر ہوتے ہیں ووٹ کا حق حاصل ہے۔ کشمیر کونسل یعنی کشمیر کے اس علاقے کی ایوان بالا کے چیئرمین پاکستان کے چیف ایگزیکٹو ہوتے ہیں ۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت آسانی سے آئین میں ترمیم کر سکتی ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||