کشمیر: مذہبی جماعتوں کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں تعینات انڈین افواج کی ’سدبھاونا‘ نامی امدادی مہم کے خلاف مذہبی جماعتوں نے احتجاجی تحریک چھیڑ دی ہے۔ اس مہم کے ضمن میں فوج نے حالیہ برسوں کے دوران مذہبی مقامات کی مرمت کے لیے ایک وسیع تعمیراتی پروگرام شروع کیا تھا۔ اس سلسلے میں نئی دلّی کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کے حامی رہنما میر واعظ عمر فاروق نے جمعرات کو سرینگر کے میر واعظ منزل پر وادی کے مذہبی رہنماؤں کی گول میز کانفرنس طلب کی تھی جس میں علماء اور مختلف مذہبی انجمنوں کے نمائندوں نے سدبھاونا مہم کے خلاف ریاست گیر احتجاج شروع کرنے پر اتفاق کر لیاہے۔ سخت گیر مؤقف رکھنے والے سید علی گیلانی نے بھی اس سلسلے میں جمعہ کے روز عوامی احتجاج کی کال دی ہے۔ سدبھاونا کیا ہے؟
حال ہی میں فوج نے شمالی کشمیر میں ایک خطیر رقم مختلف مساجد، خانقاہوں اور دیگر مقدس مقامات کی تجدید کے لیے صرف کی ہے۔ مذہبی مقامات کی تعمیر و تجدید میں فوج کی طرف سے سرمایہ لگانے کا معاملہ پچھلے دنوں اس وقت متنازعہ بن گیا جب وسطی ضلع بڈگام کے ایک گاؤں میں گورنر ایس کے سنہا نے فوج کی طرف سے مرمت شدہ ایسے ہی ایک مزار کا افتتاح کیا۔ اس اقدام پر مذہبی اور سیاسی حلقوں نے زبردست اظہار کیا اور اس پر ردعمل کے دوران وہ تمام اقدامات بھی ہد ف تنقید بنے جو فوج پچھلے کئی سال سے کرتی آرہی تھی۔ میرواعظ اور گیلانی اپنے الگ الگ ردعمل میں یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ ’فوج تو ہماری ازلی دشمن ہے، وہ ہماری امداد کیسے کر سکتی ہے۔‘ لیکن فوج کی ان کارروائیوں کے خلاف سول سوسائٹی میں بھی تحفظات پائے جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ’اگر حکومت قائم ہے اور فنڈز ہیں، تو پھر آرمی کو ایسے کام کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ فوج تو لا اینڈ آرڑر کے لیے ہوتی ہے لیکن جس انداز سے فوج نے دیہات میں کام کرنا شروع کیا ایسا لگتا ہے کہ فوج کی ایک متوازی حکومت چل رہی ہے۔‘ مقامی مذہبی جماعت جمعیت اہلحدیث کے صدر مولوی شوکت شاہ نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ’آرمی اگر واقعی لوگوں کی ہمدرد ہے تو معصوموں کا قتل عام بند کردے، اس سے بڑھ کر سدبھاونا کیا ہو سکتی ہے؟‘ میر واعظ عمر کی طرف سے بلائی گئی علماء کانفرنس میں شرکاء نے طلباء و طالبات میں اُردو اور فارسی کی جگہ ہندی زبان کی ترویج کے لیے بھی فوج کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ حریت لیڈر اور معروف شیعہ رہنما مولانا محمد عباس انصاری نے کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا: ’ہندوستانی فوج ہماری ثقافت اور خاص مذہبی پہچان کو مسخ کرنا چاہتی ہے۔‘ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سکولوں اور کالجوں میں اُردو، فارسی اور عربی کی تعلیم کا وہی نظام رائج کرے جو مہاراجہ ہری سنگھ کے دوراقتدار میں تھا۔
فوج کیا کہتی ہے؟ ماتُھر کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اور آرمی کے درمیان سدبھاونا کے تعلق سے کوئی تضاد نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’جب ہم کوئی پروگرام کرتے ہیں تو حکومت کو انفارم (مطلع) کرتے ہیں۔‘ فوجی ترجمان نے تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ خیرسگالی جذبہ کے تحت پچھلے تین سال کے دوران ایک کروڑ، اٹھارہ لاکھ، پچپن ہزار روپے کا سرمایہ صرف کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران اب تک دس لاکھ روپے کی رقم زیارت گاہوں کی مرمت، بچوں کی سیر اور دیگر سدبھاونا اقدامات پر خرچ کی جاچکی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||