BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 31 May, 2007, 10:13 GMT 15:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: مذہبی جماعتوں کا احتجاج

متحدہ مجلس علماء کا خصوصی اجلاس
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں تعینات انڈین افواج کی ’سدبھاونا‘ نامی امدادی مہم کے خلاف مذہبی جماعتوں نے احتجاجی تحریک چھیڑ دی ہے۔

اس مہم کے ضمن میں فوج نے حالیہ برسوں کے دوران مذہبی مقامات کی مرمت کے لیے ایک وسیع تعمیراتی پروگرام شروع کیا تھا۔

اس سلسلے میں نئی دلّی کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کے حامی رہنما میر واعظ عمر فاروق نے جمعرات کو سرینگر کے میر واعظ منزل پر وادی کے مذہبی رہنماؤں کی گول میز کانفرنس طلب کی تھی جس میں علماء اور مختلف مذہبی انجمنوں کے نمائندوں نے سدبھاونا مہم کے خلاف ریاست گیر احتجاج شروع کرنے پر اتفاق کر لیاہے۔

سخت گیر مؤقف رکھنے والے سید علی گیلانی نے بھی اس سلسلے میں جمعہ کے روز عوامی احتجاج کی کال دی ہے۔

سدبھاونا کیا ہے؟

سدبھاونا مہم کیا ہے
 سدبھاونا کے تحت یہاں تعینات فوج کنٹرول لائن کے قریبی دیہات میں پچھلے دس سال سے سکول، کمپیوٹر کی تربیت کے ادارے، بیت الخلاء اور بجلی پیدا کرنے کے چھوٹے پلانٹ قائم کر رہی ہے۔ فوج نے سکول کے طلباء و طالبات اور معمر شہریوں کوبڑے ہندوستانی شہروں کی سیر کروانے کے لیے ’بھارت درشن‘ نامی پروگرام بھی شروع کر رکھا ہے۔
سدبھاونا کے تحت یہاں تعینات فوج کنٹرول لائن کے قریبی دیہات میں پچھلے دس سال سے سکول، کمپیوٹر کی تربیت کے ادارے، بیت الخلاء اور بجلی پیدا کرنے کے چھوٹے پلانٹ قائم کر رہی ہے۔ فوج نے سکولی طلباء و طالبات اور معمر شہریوں کوبڑے ہندوستانی شہروں کی سیر کروانے کے لیے ’بھارت درشن‘ نامی پروگرام بھی شروع کر رکھا ہے۔

حال ہی میں فوج نے شمالی کشمیر میں ایک خطیر رقم مختلف مساجد، خانقاہوں اور دیگر مقدس مقامات کی تجدید کے لیے صرف کی ہے۔ مذہبی مقامات کی تعمیر و تجدید میں فوج کی طرف سے سرمایہ لگانے کا معاملہ پچھلے دنوں اس وقت متنازعہ بن گیا جب وسطی ضلع بڈگام کے ایک گاؤں میں گورنر ایس کے سنہا نے فوج کی طرف سے مرمت شدہ ایسے ہی ایک مزار کا افتتاح کیا۔

اس اقدام پر مذہبی اور سیاسی حلقوں نے زبردست اظہار کیا اور اس پر ردعمل کے دوران وہ تمام اقدامات بھی ہد ف تنقید بنے جو فوج پچھلے کئی سال سے کرتی آرہی تھی۔

میرواعظ اور گیلانی اپنے الگ الگ ردعمل میں یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ ’فوج تو ہماری ازلی دشمن ہے، وہ ہماری امداد کیسے کر سکتی ہے۔‘ لیکن فوج کی ان کارروائیوں کے خلاف سول سوسائٹی میں بھی تحفظات پائے جاتے ہیں۔

مزار پر فوجی افسران کی چادرپوشی
کپوارہ کے رہنے والے سماجی کارکن اظہر شاہ نے بی بی سی کو بتایا: ’حکومت کو دیکھنا پڑے گا کہ اگر فوج لوگوں کی بھلائی کے لیے اقدامات کرتی ہے تو اس پر عوام میں ناراضگی کیوں ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جب آرمی وہی کام کرنے لگے جو حکومت کو کرنا چاہیے تو لوگوں میں مارشل لاء کا احساس پیدا ہوتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اگر حکومت قائم ہے اور فنڈز ہیں، تو پھر آرمی کو ایسے کام کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ فوج تو لا اینڈ آرڑر کے لیے ہوتی ہے لیکن جس انداز سے فوج نے دیہات میں کام کرنا شروع کیا ایسا لگتا ہے کہ فوج کی ایک متوازی حکومت چل رہی ہے۔‘

مقامی مذہبی جماعت جمعیت اہلحدیث کے صدر مولوی شوکت شاہ نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ’آرمی اگر واقعی لوگوں کی ہمدرد ہے تو معصوموں کا قتل عام بند کردے، اس سے بڑھ کر سدبھاونا کیا ہو سکتی ہے؟‘

میر واعظ عمر کی طرف سے بلائی گئی علماء کانفرنس میں شرکاء نے طلباء و طالبات میں اُردو اور فارسی کی جگہ ہندی زبان کی ترویج کے لیے بھی فوج کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

حریت لیڈر اور معروف شیعہ رہنما مولانا محمد عباس انصاری نے کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا: ’ہندوستانی فوج ہماری ثقافت اور خاص مذہبی پہچان کو مسخ کرنا چاہتی ہے۔‘ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سکولوں اور کالجوں میں اُردو، فارسی اور عربی کی تعلیم کا وہی نظام رائج کرے جو مہاراجہ ہری سنگھ کے دوراقتدار میں تھا۔

فوج کا مؤقف
 اُنیس سو سینتالیس سے ہی فوج سِوِک ایکشن پروگرام کے تحت ضرورتمندوں کی امداد کرتی آئی ہے۔ حالات کی وجہ سے جب باز آبادکاری کی ضرورت زیادہ محسوس ہونے لگی تو ہم نے اسے سدبھاونا (خیر سگالی) کا نام دے دیا۔
اس مطالبے پر تبصرہ کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے ایک مندوب نے بی بی سی کو بتایا: ’اگر مہاراجہ کی دستوری طور پر قائم ہندو ریاست میں اُردو اور فارسی کی تعلیم سے ملک کوخطرہ نہ تھا تو آج کون سا خطرہ ہوگا جب نئی دلّی کا دعویٰ ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں جمہوریت قائم کرچکی ہے۔‘

فوج کیا کہتی ہے؟
رابطہ کرنے پر سرینگر میں تعینات فوج کی پندرہویں کور کے ترجمان کرنل اے کے ماتھُر نے بی بی سی کو بتایا: ’اُنیس سو سینتالیس سے ہی فوج سِوِک ایکشن پروگرام کے تحت ضرورتمندوں کی امداد کرتی آئی ہے۔ حالات کی وجہ سے جب آبادکاری کی ضرورت زیادہ محسوس ہونے لگی تو ہم نے اسے سدبھاونا (خیر سگالی) کا نام دے دیا۔‘

ماتُھر کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اور آرمی کے درمیان سدبھاونا کے تعلق سے کوئی تضاد نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’جب ہم کوئی پروگرام کرتے ہیں تو حکومت کو انفارم (مطلع) کرتے ہیں۔‘

فوجی ترجمان نے تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ خیرسگالی جذبہ کے تحت پچھلے تین سال کے دوران ایک کروڑ، اٹھارہ لاکھ، پچپن ہزار روپے کا سرمایہ صرف کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران اب تک دس لاکھ روپے کی رقم زیارت گاہوں کی مرمت، بچوں کی سیر اور دیگر سدبھاونا اقدامات پر خرچ کی جاچکی ہے۔

دیکھیے’فرضی تصادم‘
’فر ضی تصادم‘ پر انڈین کشمیر میں احتجاجی مظاہرے
احتجاجفرضی جھڑپ اورقتل
ڈی این اے رپورٹ سے ثبوت بھی مل گئے
نعیم خانکشمیری رہنما
’پاکستان مسلح شورش سے کنارہ کش‘
رقوپاکستان میں کشمیر وازوان
پاکستان میں کشمیری پکوانوں کے 'فوڈ فیسٹِول' کا منصوبہ
قدیم مسجد کیمسجد کی خراب حالت پر مظاہرے
ایک قدیمی مسجد کی خراب حالت کے خلاف احتجاج
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں فوجی مراکزپالیسی 'ان وزایبل'
فوجی موجودگی کو 'ان وزایبل' بنانے کے لیے
چنار کو خطرہ
کشمیر یونیورسٹی کے طلبہ بھوک ہڑتال پر
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد