BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 April, 2007, 18:36 GMT 23:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسجد کی خراب حالت پر مظاہرے

لکاجح
قلعے کے اندر ایک گرودوارہ اور مندر صحیح سلامت ہے لیکن مسجد کی حالت خراب ہے
ہندوستان کے زیرِانتظام جموں و کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں پولیس نے ایک قدیم مسجد کی خراب حالت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استمعال کرنا پڑا۔

یہ افراد سری نگر کے نوہاٹا علاقے میں مظاہرہ کر رہے تھے۔

کشمیر کے بعض علیحدگی پسند رہنماؤں کو احتیاط کے طور پہلے ہی پر نظر بند کیا گیا تاکہ وہ مسجد کے معاملے پر جلسےو جلوس نہ نکال سکیں۔

نظر بند افراد میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سخت گير دھڑے کے رہنما سید علی شاہ گيلانی بھی شامل ہیں۔

سری نگر شہر کے قلب میں کوہِ ماراں نامی پہاڑی پر واقع سولہویں صدی کے قلعے کے اندر ایک گرودوارہ اور مندر صحیح سلامت ہے لیکن مسجد کی حالت خراب ہے۔

اس قلعہ کو مغل بادشاہ اکبر نے تعمیر کرایا تھا۔ آثارِ قدیمہ کے محکمے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مسجد بہت بوسیدہ اور خستہ حال ہو چکی ہے اور اس کی مرمت کی جارہی ہے۔

مسجد کی خراب حالت پر کشمیرکے عوام میں زبردست غم و غصہ ہے۔

مقامی باشندوں میں ناراضگی اس لیے زیادہ ہے کیونکہ یہ تاریخی قلعہ گزشتہ سترہ برسوں سے نیم فوجی دستوں کے قبضے میں رہا ہے۔ گزشتہ روز ایک بڑی تعداد میں احتجاجی مظاہرے کیے گۓ تھے۔ جس کے بعد پولیس نے آٹھ افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔

ایک ہفتے قبل یوم عالمی وراثت کے موقعہ پر اسے عوام کے لیے کھول دیا گیا تھا لیکن جب مسجد عوام کی توجہ اپنی طرف کھینچنے لگي تو قلعہ ایک بار پھر بند کر دیا گیا ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد