BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 January, 2007, 20:04 GMT 01:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مجوزہ صنعتکاری، کسانوں کا احتجاج

اتر پردیش ، پنجاب ، ہریانہ اور مغربی بنگال میں بھی کسانوں کا احتجاج جاری ہے
ہندوستان کی مرکزی ریاست مدھیہ پردیش کے دھر ضلع میں سینکڑوں کسانوں نے مجوزہ صنعتکاری کے لیے زرعی زمین کے قبضے کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی ہے۔

دھر ضلع کے دس گاؤوں کے کسانوں نے ریاستی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ایک ہفتے کے اندر اندر مجوزہ منصوبہ ان کے علاقے سے واپس نہیں لیا گیا تو مزید احتجاج کیے جائیں گے۔

مرکزی حکومت نے تقریبًا پانچ ارب روپے کی لاگت سے دھر سے 45 کلومیڑ دور واقع پتم پور انڈسٹریل سٹیٹ میں آٹو موبائل ٹیسٹنگ کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک یونٹ قائم کر نے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔

اس یونٹ کو قائم کرنے کے لیے 4000 ہیکٹر زمین کی ضرورت ہے اس لیے ریاستی حکومت کو اطراف کے دس گاؤں کی زرعی زمین کو قبضے میں کر نا ہوگا۔

کسانوں کی تنظیم ’بھارتیہ کسان سنگھ‘ کے رہنما راجیندر شرما نے الزام عائد کیا کہ حکومت کسانوں کو معمولی رقم دے کر ان کی زرخیز زمین پر قبضہ کر رہی ہے۔ جبکہ اس علاقے کے بشتر افراد کاشتکاری کے پیشے سے منسلک ہیں۔

ملک کی اتر پردیش ، پنجاب ، ہریانہ اور مغربی بنگال میں بھی کسانوں کا احتجاج جاری ہے۔

مرکزی حکومت کی جانب سے ملک میں صنعتکاری کے فروغ کے لیے سینکڑوں خصوصی اقتصادی خطے بنانے کا منصوبہ تیار کیا ہے اور اس کے لیے زمین کے بڑے قطعات کی ضرورت ہے۔ اس کے سبب اس وقت ملک میں کسان بڑے پیمانے پر حکومت کی جانب سے زرعی زمین کے قبضے اور ملنے والے معاوضے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

کسان
کسانوں کا کہنا ہے کہ انہیں ان کی زمین کے بدلے معمولی معاوضہ دیا جارہا ہے

گزشتہ اتوار کو ریاست مغربی بنگال کے نندی گرام گاؤں کے علاقےمیں حکومت کے مجوزہ خصوصی اقتصادی خطے یعنی ایس ائی زیڈ کے فروغ کے خلاف احتجاج کے دوران پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اسی طرح مغربی بنگال ميں ہی سنگور علاقے ميں ٹاٹا موٹرز کمپنی کو کاروں کی فیکٹری لگانے کے لیے زمین الاٹ کرنے پر مقامی کسانوں نے احتجاجی مظاہرے کئے تھے۔

اگرچہ مرکزی حکومت نے ریاستی حکومتوں سے ان منصوبوں کے سبب متاثر ہونے والے افراد کےمناسب معاوضہ کی فراہمی کو یقینی بنانےکی ہدایات جاری کی ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سےنمٹنے کے لیے باز آباد کاری کی قومی پالیسی میں تبدیلی لانی ہو گی۔

گزشتہ پیر کو ایک تجارتی وفد سے خطاب کے دوران وزیر اعظم منموہن سنگھ نے بھی کہا تھا کہ باز آباد کاری کے لیے تین مہینےکے اندر ایک نئی پالیسی کا اعلان کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
کسانوں کا احتجاج، کرفیو
26 October, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد