کسانوں کا احتجاج، کرفیو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست راجستھان میں ضلع شری گنگانگر کے دو شہروں میں کسانوں کے احتجاجی مظاہرے کے پیش نظر حکام نے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ ضلع شری گنگا نگر کے گھڈسانا اور راولہ شہروں ميں گزشتہ ایک مہینے کے دوران تیسری مرتبہ کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ’ کسان اپنے ایک ساتھی کی موت کے بعد اب اسکے جنازے کو احتجاج کے طور پر سڑک پر لانا چاہتے ہیں۔' دس دن قبل پولیس کے ساتھ ایک جھڑپ میں یہ شحص بری طرح زخمی ہو گیا تھا اور بدھ کو اس کی موت واقع ہو گئی تھی۔ احتجاجیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک اس شحص کی آخری رسومات ادا نہیں کریں گے جب تک حکام اس کے لواحقین کے لئے معاوضہ کا اعلان نہیں کر دیتے ہیں۔ شری گنگا نگر ضلع کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا کہنا ہے کہ انہوں نے احتجاجی مظاہرے پر اس لئے پابندی عائد کر دی ہے کہ اس سے ماحول مزید کشیدہ ہو سکتا تھا۔ شری گنگا نگر کے علاوہ ریاست کے ہنومان گڑھ اور بیکانیر اضلاع میں کاشتکار گزشتہ دو برس سے اپنی فصلوں کو کم پانی ملنے کے باعث احتجاج کر رہے ہیں۔ ان علاقوں میں تقریبا آٹھ لاکھ کسان پانی کی کمی سے متاثر ہیں۔ ان کسانوں کا مطالبہ ہے کہ فی الوقت حکومت انہیں آٹھ ہزار دوسو کیوسک پانی فراہم کر رہی ہے جو انکی ضرورت سے اٹھاون فیصد کم ہے ۔ کسان ان علاقوں میں گزشتہ دو برس سے احتجاج کر رہے ہیں اور حال ہی میں اس احتجاج نے تشدد کا روپ اختیار کر لیا ہے۔ | اسی بارے میں راجستھان: سیلاب سے سو افراد ہلاک02 September, 2006 | انڈیا ’ریاستیں ترقی کی رفتار بڑھائیں‘28 September, 2006 | انڈیا پولیس، کسانوں کی جھڑپیں، کرفیو17 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||