BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 September, 2006, 06:43 GMT 11:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
راجستھان: سیلاب سے سو افراد ہلاک

سیلاب سے راجسھتان کے علاقے کواس اور ملوا میں زیادہ نقصان ہوا ہے
راجستھان کے علاقے کے افراد مشکل زندگی کے عادی ہیں۔ آسمان یہاں قہر برساتا ہے۔ عام طور پر یہاں درجہ حرارت 45 سے 50 ڈگری کے درمیان ہوتاہے۔

پانی کی بوند بوند کے لیئے انسانوں اور جانوروں کو میلوں تک پیدل چلنا پڑتا ہے۔ ایک دن آسمان کا سینہ پسیجا اور بادل جم کر برسے لیکن پانی بھی جب برسا تو قہر بن کر ہی برسا ہے۔

سو سے زائد افراد اور پچاس ہزار سے زائد جانور سیلابی پانی کی نذر ہوگئے اور اب میلوں پھیلا یہ پانی ایک بڑے خطرے کا سبب بنا ہوا ہے۔

کواس اور ملوا میں سیلاب سے سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔ یہاں ابھی بھی بیس سے تیس فٹ پانی جمع ہے۔ فضا میں کئی کلو میٹر تک لاشوں کی بو پھیلی ہوئی ہے۔

بحریہ کی کشتی پر سوار میں نے جو نظارہ دیکھا اس سے تباہی کا اندازہ ہوا۔

 کواس اور ملوا میں سیلاب سے سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔ یہاں ابھی بھی بیس سے تیس فٹ پانی جمع ہے۔ فضا میں کئی کلو میٹر تک لاشوں کی بو پھیلی ہوئی ہے۔

ہزاروں جانوروں کی لاشیں تیر رہی ہیں جن سے ایسی بدبو نکل رہی ہے کہ ماسک پہن کر بھی برداشت کرنا مشکل ہے۔ کئی ایسے منظر بھی دکھائی دیئے جن سے معلوم ہوتا تھا کہ پانی میں پھنسے افراد اور جانوروں نے موت سے بچنے کے لیئے کس قدر جدوجہد کی ہوگی۔

کواس اور ملوا میں ہوئی اس تباہی سے کئی کہانیاں پیدا ہوئیں۔ کواس میں جب پانی آیا تو نوے افراد ایک مکان کی چھت پر چڑھ گئے۔ برسوں پہلے کبھی پانی آیا تھا تو اس مکان کی سیڑھیوں کو بھی نہیں چھو پایا تھا اور اس چھت پر 24 گھنٹے کھڑے کھڑے جب پانی گلے تک پہنچ کیا تو بیشتر افراد ہمت ہار گئے صرف 37 افراد ہی زندہ بچ سکے۔

ملوا میں جب سیلابی پانی آیا تو ایک مولانا نے اپنے خاندان کو ایک کمرے میں بند کر کے قرآن پڑھنا شروع کر دیا۔ ان کے خاندان میں کوئی نہیں بچا۔

ملوا گاؤں کے ایک رہنے والے نے مجھے گاؤں کے پاس ٹیلے پر کھڑے ہوکر پانی میں ڈوبے گاؤں کی طرف اشارہ کرکے کہانی سنائی۔ پانی میں ڈوبی مسجد کے مینار نظر آ رہے تھے۔ اس نے بتایا کہ جب خدا کے گھر میں ہی پانی آگیا تو وہ کیسے بچاتا۔ پانی کے قہر نے ذات دیکھی نہ مذہب جو راستے میں آیا سب کو ختم کرکے رکھ دیا‘۔

اس تباہی میں سب سے پہلے آس پاس کے لوگ مدد کے لیئے پہنچے اور ابھی بھی زیادہ امدادی کام وہی لوگ کر رہے ہیں۔

میں نے کسی سے پوچھا کہ جب پانی آیا تو آپ کو پتہ نہیں چلا تو انہوں نے کہا کہ جب پانی پہاڑ سے آتا ہے تو شور مچاتا آتا ہے مگر یہاں پانی آیا تو سانپ کی طرح ریت میں رینگتا ہوا۔ بالکل خاموشی سے سب کچھ نگل گیا۔

اسی بارے میں
گجرات میں سیلاب کا خطرہ
16 August, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد