سیلاب زدگان کیلیے سو نئے دیہات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مغربی بھارت کی ریاست مہاراشٹر کی حکومت نے اس برس ہونے والے بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد کی آباد کاری کے لیے سو نئے دیہات بسانے کا اعلان کیا ہے۔ جولائی 2005 میں ریاست کی تاریخ کی بدترین بارشوں اور سیلاب سے مہاراشٹر میں ایک ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ پانچ ہزار کے قریب خاندان بے گھر ہو گئے تھے۔ ریاست کے ایک اعلٰی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ متاثرہ افراد کی آباد کاری میں کئی سال اور کئی ملین ڈالر لگیں گے۔ مہاراشٹر کے ادراۂ بحالی و راحت کے سربراہ کرشنا واٹس کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس منصوبے کی منظوری دے دی ہے اور اس پر جلد کام شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے اس منصوبے پر آنے والی لاگت کے بارے میں نہیں بتایا تاہم ان کا کہنا تھا کہ غیر سرکاری تنظیمیں، مخیر حضرات اور ریاستی حکومت اس منصوبے کی تکمیل کے لیے کوشاں ہیں۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں حکومت 5000 خانداوں کے لیے گھر بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس برس جولائی میں مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی اور دیگر سینکڑوں دیہات میں انتالیس انچ بارش ہوئی تھی جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ یاد رہے کہ پورے بھارت میں عام طور پر مون سون کے موسم میں سالانہ اٹھہتر انچ بارش ہوتی ہے۔ اس تباہ کن بارش کے نتیجے میں متاثرہ افراد کا گھر بار ، مال مویشی سب کچھ تباہ ہو گیا تھا اور سو سے زیادہ دیہات صفحۂ ہستی سے مٹ گئے تھے۔ اس تباہی سے ہونے والے اقتصادی نقصان کا اندازہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ لگایا گیا تھا۔ | اسی بارے میں ممبئی آفات کے گھيرے میں29 July, 2005 | انڈیا مہاراشٹر: بارشوں سے430 ہلاک28 July, 2005 | انڈیا بارش سے کم از کم 30 ارب کا نقصان02 August, 2005 | انڈیا بھارت میں سیلابوں سے 120 ہلاک13 August, 2005 | انڈیا ’میٹھی ندی کو وسیع کریں‘19 September, 2005 | انڈیا ممبئی پھر بارش میں ڈوُب گیا10 September, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||