BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 September, 2005, 12:32 GMT 17:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میٹھی ندی کو وسیع کریں‘

ممبئی میں گزشتہ ماہ بارشوں سے تباہی مچ گئی تھی
ممبئی ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ نے میٹھی ندی کے اطراف تجارتی یونٹوں کو بند کرنے اور تمام غیر قانونی قبضہ کو تین ہفتوں کے اندر ہٹانے کا حکم دیا ہے۔

میٹھی ندی پر قبضہ کرنے اس کا رخ موڑنے اور ندی میں تیل اور کچرا ڈالنے کی وجہ سے ہی چھبیس جولائی کو شہر میں سیلاب سا آگیا تھا اور اس میں چار سو سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

ممبئی میں پانی بھرنے کی ایک اور وجہ پلاسٹک کی تھیلیاں بھی ہیں اور حکومت نے ان پر پابندی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

سابق ممبر پارلیمنٹ کرٹ سومیہ نے ممبئی ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی جس میں انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ میٹھی ندی کو آلودہ کرنے والی تمام تجارتی یونٹوں کو وہاں سے فوری طور پر ہٹایا جائے اور غیر قانونی قبضہ ختم کیا جائے۔

ممبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دلویر بھنڈاری اور جسٹس ایس جے وجیفدار کی ڈیویژن بینچ نے مہاراشٹر پولیوشن کنٹرول بورڈ اور ممبئی میونسپل کارپوریشن کو ہدایت دی تھی کہ وہ میٹھی ندی کے اطراف سے غیر قانونی قبضوں کو اکیس ستمبر تک ہٹا دیں اور چھبیس ستمبر تک عدالت میں کارروائی کی رپورٹ پیش کریں۔

ایئر پورٹ اتھارٹی نے بھی میٹھی ندی کا رخ موڑ کر وہاں قبضہ کیا ہے اس لیے عدالت نے انہیں بھی حکم دیا ہے کہ وہ چھبیس ستمبر سے پہلے عدالت میں اپنا حلف نامہ داخل کریں۔

مہاراشٹر پولیوشن کنٹرول بورڈ (ایم پی سی بی) کے مطابق انہوں نے میٹھی ندی کے کنارے بنے تجارتی یونٹوں کو انتباہ کر دیا ہے کہ وہ اپنا قبضہ وہاں سے ہٹا لیں ورنہ ان کا بجلی اور پانی کا کنکشن منقطع کرنے کے لئے متعلقہ محکمہ سے رجوع کریں گے ۔

میٹھی ندی ویہار جھیل سے شروع ہوتی ہے اور ماہم کھاڑی میں ختم ہوتی ہے۔ ممبئی میں جیسے جیسے آبادی میں اضافہ ہوا اور پرانی ممبئی سے لوگ اس کے مضافات میں آ کر بسنے لگے تو انہوں نے میٹھی ندی کے کنارے قبضہ کیا۔ یہاں فلٹرپاڑہ سے آرے کالونی تک دو کلومیٹر کی ندی کو پاٹ کر لوگوں نے وہاں غیر قانونی طور پر جھونپڑے اور تجارتی یونٹ بنا لیے ہیں۔ کالینہ سے باندرہ کرلا کمپلیکس تک بھنگاراور تیل صاف کرنے کے کارخانے ہیں۔

عرضی گزار کرٹ سومیہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ چھبیس جولائی کو ہوا اس کے ذمہ دار چند لوگ ہیں اور ان کی وجہ سے سارے شہر کو تکلیف ہوئی۔ یہاں غیر قانونی طور پر قبضہ کرنے والے تاجروں نے ندی کو تباہ کر دیا اس میں سارا کچرا پھینک دیتے تھے۔ کسی بھی ریاست میں ندی اور اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ریاستی حکومت یا وہاں کے کلکٹر کی ہوتی ہے لیکن حکومت اس حقیقت سے انکار کر رہی ہے ۔

میٹھی ندی کو پاٹ کر وہاں آج کئی عمارتیں بھی بن چکی ہیں اور ان کی حیثیت قانونی بھی ہے اب حکومت کو انہیں منہدم کرنا ایک مشکل کام ہو گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد