BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
راجستھان: سیلاب سے 93 افراد ہلاک

سیلاب
راجستھان سے پہلے بارشوں اور سیلاب نے گجرات میں شدید تباہی پھیلائی
انڈیا کی ریاست راجستھان میں حکام کے مطابق سیلاب اور بارشوں سے اٹھانویں اور صرف بار میر ضلع میں اٹھاون افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ بار میر میں مسلسل بارشوں کی وجہ سے سیلاب آ گئے ہیں۔

ریاست کے امدادی وزیر کے ایل مینا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بارمیر ضلع میں سیلاب کے سبب دو ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے خیال میں سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

بارمیر راجستھان کا صحرائی علاقہ ہے۔اس ضلع میں کوئی دریا نہیں ہے جس کے سبب اس علاقہ میں اکثر خشک سالی رہتی ہے لیکن اس برس مون سون میں شدید بارشوں کی وجہ سے عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

یہاں گزشتہ تین روز سے شدید بارش ہو رہی ہے جس کے سبب ہزاروں ایکٹر زمین اور جانور پانی میں بہہ گئے ہیں۔

امدادی کارروائی کے لیئے فوج کے جوان وہاں پہنچ چکے ہيں اور اب تک ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گيا ہے۔

شدید بارش کے سبب انڈیا اور پاکستان کے درمیان بچھائی گئی ریلوے لائن بھی زير آب آ گئی ہے اور دونوں ملکوں کی درمیان چلنے والی تھر ایکسپریس بھی چار ہفتوں کے لیئے معطل کر دی گئی ہے۔ ٹرین کی معطلی کے سبب مسافروں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اس سلسلے میں وزیر خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ بار میر میں بارش کا پانی نکلنے میں کم از کم چار ہفتے لگیں گے اور اس کے بعد ہی پٹری کی مرمت شروع ہو سکے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ جو افراد اس وقت پاکستان سے انڈیا آئے ہیں ان کا ویزا بڑھا دیا جائےگا اور انہیں اٹاری کے راستے پاکستان بھیجا جائےگا۔

دوسری جانب انڈیا کی ریاست اڑیسا میں بھی سیلاب کے سبب ہزاروں لوگ پانی میں پھنسے ہو‎ئے ہیں۔

ریاستی اہلکار اربندا پادھی کے مطابق انتظامیہ کشتیوں کے ذریعے متاثرہ افراد تک پہنچنے کی کوشش کررہی ہے۔

ریاست کے ریونیو وزیر منموہن سامل نے بتایا ہے کہ ریاست کے مختلف علاقوں میں سیلاب کے سبب کم از کم 67 افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور تقریباً 20 لاکھ افراد سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ حالانکہ سیلاب کا پانی کم ہونے لگا ہے لیکن محکمہ موسمیات کا کہنا ہے آنے والے دنوں میں ریاست میں شدید بارش ہوسکتی ہے۔

دکن ڈائریدکن ڈائری
پچاس سال میں سیلاب سے دوسری بدترین تباہی
بہاربہار، آفت کا شکار
ایک جانب سیلاب تو دوسری طرف خشک سالی
بارش اور گرمی
گرمی سے بچیں یا سیلاب سے؟
ادے پور کی پچھولا جھیلادے پور کا دردِ سر
اچھی مون سون نے خوشیوں پر پانی پھیر دیا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد