BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 August, 2006, 16:18 GMT 21:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سورت سیلاب، 50 سے زائد ہلاک

گجرات سیلاب
گجرات ،اندھرا پردیش اور مہاراشٹر میں سیلاب سے سیکڑوں لوگ ہلاک ہوئے ہیں
انڈیا کی ریاست گجرات کےشہر سورت میں سیلاب سے درجنوں افراد ہلاک اور بڑی تعداد میں مکانات تباہ ہوئے ہیں۔

سیلاب کی وجہ سے روز مرہ کی زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی ہے۔

شہر میں اب تک تقریبا ڈیڑھ سو لوگوں کے مرنے کی اطلاع ہے جبکہ ریاستی وزیر کوسک پٹیل کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار دنوں میں مرنے والوں کی تعداد 65 ہے۔

شہر کے نچلے علاقوں سے پانی اتر چکا ہے اور اب منہدم عمارتوں سے لاشوں کو نکالنے کا کام جاری ہے ۔ سورت میں بجلی اور پینے کا پانی نہیں ہے اور گیس پائپ لائن بھی کاٹ دی گئی ہے جس سے لوگوں کی مشکلوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

ہیروں کی تجارت کے لیے مشہور سورت شہر میں پانی بھرنے سے کئی عمارتیں منہدم ہوگئی ہیں۔ راندیر علاقہ میں نوری محلہ کی مشہور رابعہ منزل منہدم ہو گئی ہے ۔ اس عمارت کے انہدام میں زخمی ہونے والے حسن جمن کا کہنا ہے کہ عمارت میں سو افراد پانچوی منزل پر پناہ لیے ہوئے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ’ بائیس لوگ کسی طرح باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن بقیہ اسی میں پھنسے ہوئے تھے۔ پانی اترنے کے بعد مقامی لوگ ہی ملبے سے لاشوں کو نکال رہے ہیں اور اب تک تیس لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔‘

سورت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ کانشی رام رانا نے بی بی سی کو بتایا ہےکہ اس وقت شہر کی صورت حال بہتر ہے ۔ ’ کئی علاقوں سے پانی نکل چکا ہے اس لیے وہاں پر صفائی کا کام جاری ہے‘ ۔ لیکن راندیر، امبریلی، پونہ اور کٹارگام جیسے علاقوں میں ابھی بھی پانی کھڑا ہے۔

کڑنا ڈیم سے تین لاکھ کیوسیک پانی بھی چھوڑا گیا ہے جس کے سبب نچلے علاقہ کے لوگوں کو ایک بار پھر محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔

وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں کا فضائی معائنے کے بعد راحت کے پیکج کا علان کیا ہے

سورت کے ایک مقامی صحافی عارف نالبند نے شہر کی صورتحال کو ابتر بتایا ہے۔ عارف کے مطابق شہر میں بجلی نہیں ہے اور لوگوں کو پینے کا پانی نہیں مل رہا ہے ۔ زیر زمین گیس لائن منقطع کر دی گئی ہے اور راندیر ، ویڈ روڈ اور کٹار گام میں حالات بہت خراب ہیں۔

عارف کا کہنا ہے کہ شہر کے متاثرہ علاقوں سے اب تک تقریبا ڈیڑھ سو لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ جن علاقوں سے پانی اتر چکا ہے وہاں دو فٹ کیچڑ جمع ہے۔
بجلی نہ ہونے کے وجہ سے نجی ہسپتال بند ہیں اور تیس لاکھ کی آبادی والے اس شہر کے پانچ ہسپتالوں میں لوگوں کو ہسپتال کی چھتوں پر رکھا گیا ہے۔ مریضوں کے لیے دواؤں کی کمی ہے ۔

ذرائع کے مطابق شہر میں پانی بھر نے سے سورت کا ہیرا بازار اور پاور لوم انڈسٹری کو تقریبا دس ہزار کروڑ روپیوں کا نقصان پہنچا ہے ۔

مسلسل بارش اور اوکائی ڈیم سے پانی چھوڑے جانے کی وجہ سے سورت کا اسی فیصد علاقہ پانی میں ڈوب گیا تھا۔ وزیر اعظم من موہن سنگھ نے آندھرا پردیش گجرات اور مہاراشٹر کی صورت حال کا فضائی معائنہ کیا ہے۔ وزیر اعظم نے سورت کو پانچ سو کروڑ روپے کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد